عراق میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی ایک امید افزا قدم: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر معصوم نے ٹی وی پر خطاب میں العبادی کو حکومت سازی کی دعوت دی

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حیدر العبادی کو عراق کا وزیر اعظم نامزد کیا جانا ’امید افزا قدم‘ ہے۔

اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ عراق ’مشکل دور‘ سے گزر رہا ہے اور انھوں نے عراقی سربراہان سے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا ہے۔

اس سے قبل عراق کے صدر فواد معصوم نے پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر حیدر العبادی کو وزیراعظم نامزد کرتے ہوئے انھیں حکومت سازی کی دعوت دی۔

حیدر العبادی کو پیر کو ملک کی شیعہ جماعتوں نے موجودہ وزیراعظم نوری المالکی کی جگہ وزیراعظم نامزد کیا تھا۔

نوری المالکی کا اپنی قوت کا مظاہرہ

مارتھا وائن یارڈ سے چھٹیاں منانے کے بعد واپس آنے پر صدر اوباما نے کہا کہ امریکی افواج نے شمالی عراق میں اسلام پسند جنگجوؤں کی پیش رفت کو روکنے کے لیے کامیاب فضائی حملے کیے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی فوجی حملہ عراق کے بحران کا حل نہیں ہے بلکہ اس کا حل عراقی حکومت کی جانب سے اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف متحدہ کارروائی ہے۔

امریکی صدر اوباما نے کہا کہ ’عراق کی نئی قیادت کے سامنے عوام کا اعتماد واپس حاصل کرنے کا مشکل کام ہے اور حکومت تمام طبقوں کی شمولیت کے ساتھ اپنے مضبوط ارادے کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ عراقی بحران کا واحد دیر پا حل عراقیوں کا متحدہ ہونا ہے

انھوں نے عبادی پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسی کابینہ بنائیں جس میں عراق کے تمام نسلی فرقوں کی نمائندگی ہو کیونکہ ان کے مطابق اس کے بعد امریکی اور بین الاقوامی تعاون کا حاصل کرنا قدرے آسان ہو جائے گا۔

واشنگٹن سے بی بی سی کی نمائندہ باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی سربراہی میں امریکہ اس قسم کے کسی تعاون میں پس و پیش کا شکار رہا ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مالکی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی ہے جس کے نتیجے میں سنی جنگجوؤں کو حمایت حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب نوری المالکی کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعظم کی نامزدگی ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

نوری المالکی تیسری بار وزیراعظم بننا چاہتے ہیں لیکن ملک کے شمال میں جاری جہادی سرکشی کے دوران ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

پیر کو دارالحکومت بغداد میں ٹی وی پر خطاب میں صدر فواد معصوم نے اس امید کا اظہار کیا کہ حیدر العبادی حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گے اور عراقی عوام کا تحفظ کریں گے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر معصوم نے کہا: ’ملک اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوری المالکی تیسری بار ملک کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں جبکہ ملک کی اکثریت ایسا نہیں چاہتی

حیدر العبادی سنہ 1952 میں پیدا ہوئے۔ وہ الیکٹریکل انجینیئر ہیں اور انھوں نے برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ صدام حسین کے دور اقتدار میں انھوں نے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔

حیدر العبادی نے وزیراعظم کے طور پر نامزدگی کے بعد ایک بیان میں عوام سے اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔

اس سے پہلے اتوار کو وزیراعظم نوری المالکی نے صدر پر تنقید کی تھی اور اس کے بعد ان کے وفادار شیعہ جنگجو اور سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت بغداد میں اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔

اپنے ٹی وی خطاب میں نوری المالکی نے کہا کہ وہ صدر معصوم کو آئین کی خلاف ورزی کے لیے عدالت میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ نوری مالکی کے اتحاد نے اپریل میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن پارلیمان انھیں تیسرا موقع دینے کے لیے تیار نہیں تھی اور صدر معصوم نے بھی اس میں دخل دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مالکی نے کہا کہ صدر معصوم سب سے بڑے اتحادی کو وزیراعظم نامزد کرنے کی دعوت نہ دے سکے اور اس کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے۔

نوری المالکی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے نوری مالکی نے فرقہ وارانہ پالیسیوں سے موجودہ بحران کو بڑھا دیا ہے اور ان سے سنیوں اور کردوں یہاں تک شیعوں کی جانب سے بھی عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کردوں نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے دو شہر واپس حاصل کر لیے ہیں

اسی لیے نوری المالکی کو قومی شیعہ اتحاد نے 40 ووٹ جبکہ حیدر العبادی کو 130 ووٹ دیے ہیں۔

دوسری جانب مغربی ممالک کی جانب سے بھی عراقی رہنماؤں پر ایک ایسی حکومت بنانے پر زور دیا جا رہا ہے جس میں تمام فرقوں اور طبقوں کی نمائندگی ہو۔

امریکہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عراقی صدر فواد معصوم کی حمایت ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے عراق میں ایک ایسی حکومت کے قیام پر زور دیا تھا جس میں حکومت میں تمام طبقے کی نمائندگی ہو۔

اس سے قبل عراق کے کردوں نے اسلام پسند جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی عسکری تعاون کی اپیل کی تھی۔

امریکہ کردستان کے دارالحکومت اربیل کے قریب دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف پہلے ہی چار مرتبہ فضائی حملے کر چکا ہے۔

ایک کرد اہلکار نے کہا ہے کہ نینوا کے مقام پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حملے کی وجہ سے کرد فوج ’پیش مرگ‘ کے لیے گوئر اور مخمور کو دوبارہ حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔

اسی بارے میں