دولتِ اسلامیہ کا خالق امریکہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption سازشی نظریات کو ہلیری کلنٹن کی حالیہ کتاب سے مزید تقویت ملی ہے

کیا عراق میں دولتِ اسلامیہ امریکی تخلیق ہے؟ لبنان میں ایک ’کانسپریسی تھیوری‘ یعنی غیر تصدیق شدہ کہانی یا سازشی نظریہ گردش کر رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو امریکہ نے خود بنایا ہے۔

بیروت میں رہتے ہوئے میں نے اسے پرکھنے کی کوشش کی۔

وسطیٰ بیروت میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے ایک لبنانی اہلکار کہتے ہیں: ’مشرقِ وسطیٰ میں کانسپریسی تھیوریز ہمارے خون میں شامل ہیں۔‘

اہلکار کا اشارہ اس افواہ کی جانب تھا کہ عراق میں داعش یا دولتِ اسلامیہ نامی شدت پسند گروہ کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے اور اس کا اعتراف سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنی کتاب ’ہارڈ چوئسز‘ میں کیا ہے۔

داعش کی تشکیل کردہ ریاست کا نام دولت اسلامی عراق و شام سے تبدیل کر کے دولتِ اسلامیہ کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شامی سرحد کے قریب لبنانی گاؤں ارسال میں داخل ہو کر سینکڑوں مکینوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے اس عمل کی ذمہ داری امریکہ پر ہونے کی افواہیں اڑنے لگیں۔

لبنانی فوجوں کے خلاف دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی وحشیانہ کارروائیوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر دکھائی جانے لگیں۔ اس کے ساتھ یہ خیال بھی عام ہونے لگا کہ امریکہ اس گروہ کی تشکیل کا ذمہ دار ہے۔

اس دعوے کے ثبوت کے طور پر سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کی کتاب کا سہارا لیا گیا ہے۔

ان کی کتاب کے مبینہ سکرین شاٹ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر پھیل رہے ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کو خطے میں بدامنی کے لیے تیار کیا ہے تاکہ امریکی مفادات پورے ہو سکیں۔

یہ افواہ اس قدر عام ہو گئی ہے کہ لبنانی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو بھی طلب کر لیا۔ معاملہ اس قدر سنگین ہو گیا کہ بیروت میں امریکی سفارت خانے کو اس سلسلے میں ایک خصوصی بیان جاری کرنا پڑا جس میں اس کی شدید تردید کی گئی۔

اصل میں ہلیری کلنٹن نے اپنی کتاب میں یہ کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے شامی باغیوں کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ وجود میں آئی۔

امریکی تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جہاں امریکہ نے مسلح گروہوں کی حمایت کی ہو جیسے کہ افغان مجاہدین جن کی کوکھ سے القاعدہ نے جنم لیا۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں پر بھی دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا الزام ہے جس کی وجہ سے اس افواہ کو فوقیت ملتی ہے۔

برسلز میں خارجہ پالیسی کے ماہر اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اوکٹیویئس پنکارڈ کا کہنا ہے: ’ایسی افواہوں کی کثرت کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے کئی بار اقتدار میں تبدیلی کے لیے باغی گروہوں کی حمایت کی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاق و سباق میں یہ کوئی ناقابلِ یقین بات نہیں۔‘

ادھر اسی سے منسلک ایک اور نظریہ یہ بھی عام ہے کہ حزب اللہ دولتِ اسلامیہ کو کبھی بیروت میں داخل نہیں ہونے دے گی۔

تاہم اس طرح کی تمام باتیں لبنان میں امریکی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کی وجہ سے ان خیالات کے پھیلاؤ میں کمی تو آئی ہے مگر پھر بھی اس ملک میں امریکی حامیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں