عراق کے لیے مزید عالمی امداد اور ہتھیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زیرِ غور امکانات میں متاثرین کی فضائی منتقلی یا انھیں محفوظ راستہ فراہم کرنا شامل ہیں

عراق میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مدد اور ان کے خوف سے نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کے لیے عالمی برادری مزید ہتھیار اور امداد عراق بھیج رہی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کوہِ سنجار پر پھنسے یزیدیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگنے والے شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اس کا یہ بھی اصرار ہے کہ امریکی فوج عراق میں عسکری کردار ادا کرنے نہیں گئی ہے۔

فرانس نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کرد سکیورٹی فورسز کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جنھیں امریکہ پہلے ہی ہتھیار دے رہا ہے۔

برطانیہ نے عراقی شہریوں کے لیے جاری امدادی کارروائیوں میں ہاتھ بٹانے کا اعلان کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شدت پسندوں کے خوف سے نقل مکانی کرنے والے یزیدی فرقے کے ہزاروں افراد شمالی عراق میں کوہِ سنجار پر پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں زندہ رہنے کے لیے خوراک، پانی اور انتہائی سرد موسم سے بچاؤ کے لیے عارضی پناہ گاہیں فوری طور پر درکار ہیں۔

قومی سلامتی کے لیے امریکی صدر کے نائب مشیر بین روڈز نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما مشکلات کا شکار عراقیوں کی امداد کے سلسلے میں مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طیاروں کی مدد سے خوراک پہنچانا مستقل حل نہیں ہے: ’اس معاملے کا دیرپا حل ہونا چاہیے جس کے تحت ان افراد کو محفوظ مقام پر پہنچا کر مستقل امداد دی جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عراقی کرد افواج کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی افواج کو افرادی کمک نہیں بلکہ ’جدید ہتھیار‘ درکار ہیں

بین روڈز کے مطابق امریکی صدر کے زیرِ غور امکانات میں متاثرین کی فضائی منتقلی یا انھیں محفوظ راستہ فراہم کرنا شامل ہیں اور امریکہ اس سلسلے میں اپنے اتحادیوں سے مل کر کام کرے گا۔

’کرد افواج ہماری مدد کر رہی ہیں اور ہم اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اتحادیوں سے بات کر رہے ہیں کہ کیسے انھیں محفوظ مقام تک پہنچایا جا سکے۔‘

ادھر عراقی کرد افواج کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی افواج کو افرادی کمک نہیں بلکہ ’جدید ہتھیار‘ درکار ہیں تاکہ وہ دولتِ اسلامیہ کے ہم پلہ ہو سکیں۔

مسرور برزانی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں فوجیوں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں غیر ملکی زمینی افواج نہیں چاہییں ہیں۔‘

فرانس کے صدر فرنسوا اولاند نے عراق میں کرد سکیورٹی فورسز کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں بہت جلد یہ اسلحہ مل جائے گا۔

امریکہ شمالی عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کرد سکیورٹی کے درمیان ہونے والی لڑائی میں پہلے ہی کردوں کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کے فرانس کا یہ اقدام عراقی کردستان میں حکام کی جانب سے ہتھیار فراہم کرنے کی اپیل کے بعد اٹھایا ہے۔

دوسری طرف امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ امریکہ نے عراق کے شمالی کرد علاقے میں مزید 130 عسکری مشیر بھیجے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی فوج کی میرین کور اور خصوصی فوجی دستوں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد علاقے میں پھنسے افراد کی مشکلات اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گئے ہیں اور وہ کسی عسکری مہم میں شریک نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں