غزہ: جنگ بندی میں توسیع کے بعد اسرائیلی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ فوج کو راکٹ حملے کا جواب دینے کو کہا گیا ہے

غزہ میں جنگ بندی میں پانچ دن کی توسیع پر اتفاق رائے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیل نے وہاں فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف ’دہشتگردوں کے ٹھکانے‘ تھے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ تین روزہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل غزہ سے اسرائیل پر پانچ راکٹ داغے گئے ہیں۔

ان مبینہ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور حماس کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی راکٹ نہیں داغے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ اسرائیل کے تازہ حملوں کو توسیع شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے یا نہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کار بدھ کو غزہ میں جاری جنگ بندی میں پانچ دن کی توسیع پر متفق ہوگئے ہیں۔

یہ اتفاقِ رائے علاقے میں تین روزہ جنگ بندی کے اختتام سے کچھ دیر قبل ہوا ہے۔

فریقین کے حکام مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ غزہ کے بحران کا حل نکالا جا سکے۔

فلسطینی اور مصری حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جنگ بندی میں توسیع موجودہ تین روزہ جنگ بندی کے اختتام سے ایک گھنٹہ قبل ہوئی۔

قاہرہ میں فلسطینی وفد کے سربراہ عظام الاحمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے بات چیت کو مزید وقت دینے پر اتفاق کیا ہے۔‘

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ یہ اتفاقِ رائے ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب بظاہر بات چیت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی تھی تاہم اس حتمی معاہدے کی راہ میں ابھی بہت مشکلات حائل ہیں۔

خیال رہے کہ فلسطین میں اسرائیلی افواج کی کارروائی میں اب تک دو ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر تعداد عام شہریوں کی ہے۔

اسی بارے میں