اقوام متحدہ کا عراق میں ’ہنگامی حالت‘ کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی کے باعث ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے

اقوام متحدہ نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد پیدا ہونے والے انسانی بحران کے پیشِ نظر انتہائی سطح کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔

عراق میں کرد حکام کے مطابق دوھک صوبے میں ڈیڑھ لاکھ مہاجرین موجود ہیں اور مقامی آبادی ان کو خوراک فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثناء امریکہ کے مطابق کوہ سنجار کی جانب نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد کو وہاں سے نکالنے کے لیے ریسکیو مشن کا ابھی امکان نہیں ہے۔

تاہم امریکہ نے انسانی ہمدری کی امداد جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں حالیہ بحران کی وجہ سے 12 لاکھ افراد اندرونِ ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس وقت دیگر تین ممالک شام، جنوبی سوڈان اور سینٹرل افریقین ریپبلک میں اسی طرح کی ہنگامی حالت نافذ ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نیکولی ملکدینو کے مطابق عالمی ادارے کی جانب سے ہنگامی حالت کی سطح ’3‘ کرنے کے بعد عراق میں اضافی امدادی سامان، مالی وسائل پہنچانے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ کوہ سنجار کی جانب نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوگ عراق سے نقل مکانی کر کے شام پہنچ رہے ہیں جہاں ان کو امداد فراہم کی جا رہی ہے

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ شدت پسندوں کے خوف سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد اب بھی شمالی عراق میں ایک پہاڑ پر پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں زندہ رہنے کے لیے فوری مدد درکار ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کوہِ سنجار پر پھنسے یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ان خاندانوں کو فوری طور پر خوراک، پانی اور انتہائی سرد موسم سے بچاؤ کے لیے عارضی پناہ گاہیں درکار ہیں۔

یہ افراد اس وقت سنجار کے قصبے سے نکل کر پہاڑ پر چلے گئے تھے جب دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ان کے قصبے پر قبضہ کر لیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حالیہ چند ماہ میں شمالی عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد وہاں سے مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

پہاڑ پر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جانے والے عراقی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے والے یزیدی فرقے کے ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی صورتحال ’نسل کشی‘ جیسی ہوتی جا رہی ہے۔

مرزا دینے نامی کارکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اندازہ کریں کہ جب آپ پانچ ہزار افراد کے درمیان ہیلی کاپٹر اتاریں اور ان میں سے صرف دس سے بیس افراد کو لے جا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہر کوئی ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں