’عراق میں لوگوں کو قتل ہوتا نہیں دیکھ سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حالیہ چند ماہ میں شمالی عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے

یورپ کے وزرائے خارجہ نے اپنے ہنگامی اجلاس میں عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے عراقی کردوں کو ہتھیار فراہم کے معاملے پر غور کیا ہے۔

عراقی کردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ فرانس اور امریکہ کے اقدامات پر منحصر ہو گا۔

ادھر جرمن وزیرِ خارجہ نے اجلاس کو بتایا کہ وہ عراق جا رہے ہیں جہاں وہ کرد رہنماؤں اور حکومت سے مذاکرات کریں گے۔

برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا ’ہم عراق میں لوگوں کو قتل ہوتا نہیں دیکھ سکتے، اگر وہاں یہی صورتِ حال تو ہمیں کردوں کو ہتھیار فراہم کرنا ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ جمعرات کو عراقی وزیراعظم نور المالکی نے استعفی دے کر ملک کی قیادت عراقی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر حیدر العبادی کو سپرد کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگامی اجلاس فرانس کی جانب سے طلب کیا گیا تھا جس کے وزیرِ خارجہ نے عراق میں جاری کشیدگی پر یورپ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا

یورپی یونین کا یہ ہنگامی اجلاس فرانس کی جانب سے طلب کیا گیا تھا جس کے وزیرِ خارجہ نے عراق میں جاری کشیدگی پر یورپ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نےیورپ کی خارجی پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کو ایک خط میں لکھا ’جب لوگ مر رہے ہوں تو آپ کو چھٹیوں سے واپس آ جانا چاہیے۔‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی وجہ سے جاری اس تنازع میں دس لاکھ کے قریب لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حالیہ چند ماہ میں شمالی عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد وہاں سے مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

عراقی فوج کرد فورسز کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کر رہی ہے اور صدر اوباما کا کہنا ہے کہ عراقی اور کرد فورسز کے لیے امریکی مدد جاری رہے گی۔

دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے خلاف عراق کے عسکری ردِعمل میں بغداد میں سیاسی بحران کی وجہ سے مشکلات آ رہی ہیں۔

واضع رہے کہ عراق پہ حالیہ بمباری کے بعد امریکہ اور یورپی ملکوں نے جہازوں کے ذریعے پہاڑوں میں چھپے مقامی عراقی لوگوں کو پانی اور اشیا خوردونوش پہنچائی تھیں۔

اس سے پہلے عراق میں ریاستی ٹی وی چینل کے مطابق ملک کے وزیراعظم نوری المالکی نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا جسے امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے خوش آمدید کیا تھا۔

ان کی جگہ عراقی پارلیمان کے نائب سپیکر حیدر العبادی لیں گے اور حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران کے پیشِ نظر ملک کے صدر نے حیدر العبادی کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی تاہم نوری المالکی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں