رشتہ داروں کی ہلاکت پر اسرائیلی اعزاز واپس کر دیا

Image caption زانولی اور ان کی والدہ نے سنہ 45-1943 کے دوران ایک یہودی بچے کو نازیوں سے پچایا تھا اور اسے پناہ دی تھی

ہالینڈ کے ایک شخص نے دوسری جنگ عظیم میں ایک یہودی بچے کو بچانے کے لیے ملنے والے اسرائیلی اعزاز کو واپس کر دیا ہے۔

انھوں نے یہ میڈل گذشتہ دنوں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے چھ رشتہ داروں کی ہلاکت کے بعد واپس کیا ہے۔

91 سالہ ہینک زانولی نے ہیگ میں اسرائیلی سفارتخانے کے نام تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا کہ اب وہ ’اس اعزاز کو نہیں رکھ سکتے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ حالیہ حملے میں ایک اسرائیلی طیارے نے غزہ میں ان کی پڑ پوتی کے گھر کو تباہ کر دیا اور گھر کے سارے افراد کو ہلاک کردیا۔

اسرائیلی سفارتخانے نے مسٹر زانولی کے اس عمل پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

زانولی اور ان کی والدہ کو اسرائیل نے سنہ 2011 میں ’رائٹیئس آمانگ دا نیشنز‘ یعنی اقوام میں خداترس کے اعزاز سے نوازا تھا کیونکہ انھوں نے سنہ 45-1943 کے دوران ایک یہودی بچے کو نازیوں سے پچایا تھا اور اسے پناہ دی تھی۔

یہ اعزاز ان غیر یہودی افراد کو دیا جاتا ہے جنھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کو بچایا تھا۔

بہرحال اسرائیل کے اخبار ہاریٹز نے زانولی کا یہ خط شائع کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے دیے جانے والے اس اعزاز کو ان حالات میں رکھنا میرے خاندان اور ان کی چوتھی نسل کے لیے بے عزتی ہے جنھوں نے غزہ میں اپنے کم از کم چھ رشتے دار گنوا دیے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رائٹیئس آمانگ دا نیشنز یعنی اقوام میں خداترس کا یہ اعزاز ان غیر یہودیوں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کو بچایا ہو

’میری ماں کی چھڑپوتوں اور پوتیوں نے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں اپنی دادی ماں کو کھو دیا، اپنے تین چچا کو کھو دیا، ایک چچی، ایک چچازاد بھائی کو کھو دیا۔‘

انھوں نے یہ خط اسرائیلی فوج کی جانب سے 20 جولائی کو کیے جانے والے حملے کے حوالے سے لکھا۔

ان کی پڑپوتی ہالینڈ کی ایک سفارتکار ہیں اور ان کی شادی ایک فلسطینی ماہر معاشیات اسماعیل زیادہ سے ہوئی تھی جو کہ غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی طیارے کے حملے میں اسماعیل زیادہ کی والدہ، ان کے تین بھائی، ایک بھاوج اور ایک نوسالہ بھتیجہ ماراگيا تھا۔

مسٹر زانولی جو کہ ایک ریٹائڑڈ وکیل ہیں، انھوں نے اسرائیل کے ’آپریشن پروٹکٹیو ایج‘ کی سخت تنقید کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ’اس قسم کے اقدام ممکنہ طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔‘

اسرائیل نے غزہ میں اپنے حملے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی فوج فلسطینوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے پہلی بار اس حد تک گئی ہے کہ انھیں ٹکسٹ میسجز، ٹیلیفون اور لیفلٹ گرا کر حملوں کے مقامات کے بارے میں پیشگی اطلاعات دیں۔اگاہ کیا ہے۔

مسٹر زانولی نے نازیوں کے کنسنٹریشن کیمپ میں اپنے والد کو گنوایا اور دوسری جنگ عظیم میں ڈچ مزاحمت کے دوران ان کے ایک بہنوئی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں