ریاستِ اسلامیہ پر عراق و شام میں ’قتل عام‘ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ تشدد کے واقعات میں اطلات کے مطابق صرف عراق میں 12 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں

شمالی عراق اور مشرقی شام کے علاقوں میں ریاستِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر سینکڑوں افراد کے قتل عام کا الزام لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقے فی الحال ریاستِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔

جمعے کو ملنے والی غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق عراق کے ایک گاؤں میں یزیدی مذہبی اقلیت کے کم از کم 80 افراد کو قتل کر دیا گیا اور خواتین اور بچوں اغوا کر لیا گیا۔

ریاستِ اسلامیہ پر شام کے صوبے دیر الزور میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران مخالفت کرنے والے 700 قبائلیوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

رواں تشدد کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق صرف عراق میں 12 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ شمالی عراق میں کرد افواج کو فضائی حملوں کے ذریعے تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ریاستِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے انتہائی اہمیت کے حامل موصول ڈیم کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔

امریکہ کی مرکزی کمان نے کہا کہ اس نے سنیچر کے روز ابریل اور ڈیم کے آس پاس نو حملے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کرد فوج کی حمایت میں ریاست اسلامیہ پر فضائی حملے کر رہا ہے تاکہ موصل کے انتہائی اہمیت کے حامل ڈیم کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے

مرکزی کمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان حملوں میں چار فوج بردار گاڑیاں، سات اسلحے سے لیس گاڑیاں، دو ہمویز اور ایک بکتربند گاڑی کو تباہ کردیا گیا ہے یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تمام طیارے حملے کے بعد سلامتی سے لوٹ آئے۔‘

برطانیہ، جرمنی اور دوسرے ممالک عراق کے شمالی علاقوں میں موجود پناہ گزینوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ریاستِ اسلامیہ بنانے والی تنظیم داعش شروع میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شامی خانہ جنگی میں سامنے آئی لیکن اس کے بعد سے اس نے عراق کے بہت سے حصے پر قبضہ کر لیا اور موصل کو اپنا دارالحکومت بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاست اسلامیہ پہلے پہل شام میں ظاہر ہوئی تھی پھر کچھ ہی دنوں میں اس نے عراق کے شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا

اطلاعات کے مطابق جمعہ کی سہ پہر ریاستِ اسلامیہ کے جنگجو کوہِ سنجار سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع كوچو گاؤں میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر وہاں کے لوگوں سے کہا کہ اسلام لے آئیں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

امریکہ میں مقیم یزیدی رضاکار ہادی پیر کے مطابق گاؤں والوں کو ایک ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ ان کے مطابق گاؤں والوں کو وہاں کے واحد سکول میں جمع کیا گیا تھا۔ مردوں کو گولی مارنے کے بعد باقی لوگوں کو بس میں بیٹھا کر نامعلوم مقام کے لے جایا گيا ہے۔

اس کے بعد امریکی فوج نے کہا کہ جمعے کی صبح اس نے کوہِ سنجار کے قریب ریاستِ اسلامیہ کی دو گاڑیوں کو نشاندہی کے بعد ڈرون حملے سے انھیں تباہ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی عراق میں کرد فوج پیش مرگ ریاست اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف اہم مزاحمت ہے جسے امریکہ کا تعاون حاصل ہے

دریں اثنا برطانیہ میں قائم شامی حزب اختلاف کے رضاکاروں نے خبر دی ہے کہ ریاستِ اسلامیہ نے تیل سے مالامال صوبے دیر ازور میں الشیتات قبیلے کے 700 افراد کو مار ڈالا ہے۔

سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ’معتبر ذرائع نے خبر دی ہے کہ بہت سے قبائیلیوں کے سر تن سے جدا کر دیے گئے۔‘

آبزرویٹری کے ڈائرکٹر عادل رحمان نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ’جن کا قتل کیا گیا وہ سب الشعیطات قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ بعض لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے بعد قتل کر دیا گيا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی میں عراقی اقلیت، یزیدی، عیسائی اور دیگر فرقوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے ہیں

سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی کہ الشعیطات کے لوگوں کے سروں کو کاٹ کر سڑکوں اور گلیوں میں عبرت کے لیے رکھ دیا گيا۔

اس ماہ کے اوائل میں اس علاقے کے قبائلیوں نے ریاستِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو مقامی طور پر مزاحمت کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

دوسری جانب مغربی ممالک میں عراقی اقلیت، یزیدی، عیسائی اور دیگر فرقوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں