مزوری: پولیس کا مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ aptn
Image caption پولیس کے مطابق آنسو گیس کا استعمال مناسب تھا

امریکی ریاست مزوری میں پولیس نے فرگوسن شہر میں ایک سیاہ فام نوجوان کو ہلاک کرنے کے بعد ہونے والے احتجاج پر آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

اس نوجوان کو پولیس نے گذشتہ ہفتے گولی مار کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد احجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو رات کو نافذ کیے گئے کرفیو کی بھی خلاف ورزی تھی۔

سینٹ لوئس کے مضافاتی علاقے میں جمع ہونے والے 150 مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مناسب جواب` تھا مبینہ طور پر پولیس کی کار پر گولی چلائے جانے کے بعد۔

پولیس کے کیپٹن رون جونسن کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہے۔

پولیس کے مطابق اس کی کارروائی ایک ریستوران کے قریب تشدد کے واقعات کا ردِ عمل تھی اور فائرنگ کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption علاقے میں کشیدگی بدستور موجود ہے اور اتوار کو بھی احتجاج کیا جائے گا

کیپٹن جونسن نے کہا کہ ’ہمیں ایک شخص سڑک کے درمیان میں کھڑا ہوا دکھائی دیا۔ ہماری گاڑی پر فائرنگ ہوئی اور ہاں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مناسب ردِ عمل تھا پولیس اہلکاروں کے تحفظ اور عوام کے تحفظ کے لیے۔‘

یہ اقدام ایک ہفتے کی پرتشدد جھڑپوں کے بعد ہوا جو مسلح ہولیس اور مظاہرین کے درمیان تھا۔

18 سالہ مائیکل براؤن کو فرگوسن کی ایک سڑک پر 9 اگست کو ہلاک کیا گیا تھا۔

سینکڑوں افراد سینیچر کی رات کو شدید موسم میں کرفیو کے آغاز سے کچھ گھنٹے قبل فرگوسن کی مرکزی سڑک پر جمع ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 18 سالہ براؤن کو جس جگہ گولی ماری گئی وہاں لوگ پھول اور کارڈ چھوڑ کر جا رہے ہیں

ان میں سے کئی افراد پر امن طور پر چھوڑ کر چلے گئے جبکہ کئی افراد نے کرفیو کی پابندی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس نے مظاہرین کو خبردار کیا انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اگر وہ مقام سے اٹھ کر نہ گئے۔

اس کے بعد پولیس نے دھوئیں کے بم اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے گئے جس کے بعد مظاہرین جگہ چھوڑتے ہوئے نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مائیکل براؤن حال ہی میں ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہوئے تھے

ایک مظاہرہ کرنے والے نوجوان سکاٹ جن کی عمر 24 سال ہے نے کہا کہ ’کرفیو حالات کو مزید ناسازگار بنائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پولیس تشدد پر اترے گی مگر وہ ہم سب کو تو جیل میں بند نہیں کر سکتے ہیں۔‘

ریاست کے گورنر جے نکسن نے کہا کہ امن قائم کیا جائے اور یہ کہا کہ ’کئی مظاہرین اپنی آواز کو پرامن طور پر بلند کر رہے ہیں مگر وہ چند مٹھی بھر لٹیروں کو معاشرے کا امن برباد نہیں کرنے دیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں پہلے امن قائم کرنا ہے اور یہ ایک امتحان ہے اور دنیا کی نظریں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ ہم چند لوگوں کی بری نیتوں کو اکثریت کی اچھی نیتوں کو نچیا دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علاقے میں کشیدگی اور لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے مقامی دکانداروں نے بندوقیں رکھی ہوئی ہیں

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکی محکمۂ انصاف نوجوان پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں مدد دے رہا ہے۔

کیپٹن رون جونسن جو فرگوسن کی سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں نے کہا کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے 40 اہلکار گھر گھر جا کر اس واقعے کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

دون جونسن اور گورنر نکسن سینیچر کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کے دوران انہیں غصے سے بھرے مقامی افراد کی جانب سے کئی بار خلل کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریاست مزوری کے گورنر نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس کے دوران غصے سے بھرے مقامی افراد نے کئی بار خلل ڈالا

یہ کشیدگی جمعے کے بعد شروع ہوئی جب فرگوسن کے پولیس سربراہ تھامس جیکسن نے اس پولیس افسر کا نام ظاہر کیا جس نے نوجوان براؤن کو ہلاک کیا تھا۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی جس میں براؤن کو اپنی ہلاکت سے کچھ دیر قبل سگار کا ایک پیکٹ چوری کرتے ہوئے دکھایا گیا اور دکان کے مالک کو دھمکاتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔

جیکسن نے کہا کہ 18 سالہ براؤن کو اس چوری کی وجہ سے نہیں روکا گیا اور جس اہلکار نے انہیں ہلاک کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ چوری کے مشتبہ ملزم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعے کی رات کو پولیس کے ساتھ لڑائی کے بعد کئی مقامی دکانوں کو لوٹا گیا

بی بی سی کے ٹام ایسلمونٹ نے واشنگٹن سے خبر دی کہ جیکسن کے بیان سے بہت زیادہ غم و غصہ بڑھا۔

براؤن کے خاندان نے بتایا کہ انہیں ’شدید غصہ‘ آیا ویڈیو کے اجرا پر اور تنقید کی کہ ’اس کا مقصد پولیس کی جانب سے سرِ عام قتل کرنے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے‘

براؤن کے خاندان کی جانب سے ایک اور جلوس اتوار کو نکالے جانے کا منصوبہ ہے۔