کنٹینر میں افغان سِکھوں کی سمگلنگ

تصویر کے کاپی رائٹ seateamimages.com
Image caption تیس سے زیادہ افراد سامان بردار ایک کنٹینر میں بند ہوکر لندن کے مضافات میں ایک بندر گاہ میں پہنچے

سنیچر کو بلجیم سے انگلینڈ کی ’ٹل بری‘ بندرگاہ آنے والے ایک سامان بردار جہاز کے ایک کنٹینر میں سے پینتیس افراد بر آمد ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایسکس پولیس کے مطابق ان سکھ افراد کا تعلق افغانستان سے ہے اور یہ انسانوں کی سمگلنگ کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص مردہ حالت میں پایا گیا جبکہ چارافراد کو پانی کی شدید کمی اور جسم کی حرارت غیر معمولی طور پر کم ہو جانے کے باعث فوری علاج معالجے کے غرض سے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

تیس افراد کو پولیس اور سرحدی سکیورٹی عملے کے سپرد کردیا گیا ہے۔ جہاں ان لوگوں نے اس بارے میں ان سے تفتیش کی جائے گی کہ انھوں نے ایک مال بردار کینٹینر میں بند ہوکر کیوں سفر کیا۔

ملک میں غیر قانونی طور پر داخلے اور اس کوشش میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اس پورے واقعے کے عوامل جاننے کے لیے پولیس اور دوسرے حکام دوسری بین الاقوامی ایجینسیوں سے رابطے کررہی ہے۔

ہلاک ہونے کا شخص کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور کنٹینر کی پڑتال کے بعد کہا گیا ہے کہ یہ افراد دوران سفر انتہائی خوفناک کیفیت سے گزرے ہیں، ہسپتال منتقل کیے جانے والے افراد کو اتوار تک فارغ کردیا جائے گا۔

لندن کی مضافاتی کاؤنٹی ایسکیس کے پولیس اہلکار کہتے ہیں کہ ان افراد کی صحت اور ان کی بہتری ان کی اولین ترجیع تھی لیکن اب جبکہ وہ بہتر حالت میں ہیں تو ہماری پولیس ان سے مترجم کی مدد سے پوچھ گچھ کر ہی ہے۔

ان کے بتانے پر معلوم ہوا ہے کہ سکھ مذہب کے ان افراد کا تعلق افغانستان سے ہے۔ پولیس سربراہ نے کہا’ اس سلسلے میں ٹل بری میں آباد سکھ کمیونٹی نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ ہماری اولین کوشش ہے کہ انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی حالات میں سفر کرنے والے ان افراد کی مذہبی اور کپڑوں کی ضروریات کا پورا خیال رکھا جائے۔

ریڈکراس نے ان کے کھانے پینے اور دوسری ضروریات کا بندوبست کیا ہے۔

یہ مال بردار کنٹینر بلجیم کے ایک دیہات زی بروج سے روانہ ہوکر کل شام ٹل بری کی بندرگاہ میں پہنچا، کنٹینر میں انسانوں کی موجودگی کی اندازہ اس وقت ہوا جب اس کے اندر سے چیخنے چلانے اور کنٹینر کی دیواریں زور زور سے کٹھکٹھانے کی آوازیں سنی گئیں۔

اس واقعے کے بعد جہاز کے تمام کینٹینرز کی تلاشی لی گئی تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کہیں کسی اور کینٹینر میں بھی سامان کی جگہ انسانوں کو نہ لاد دیا گیا ہو، تاہم کسی اور کینٹینر سے کوئی فرد بر آمد نہیں ہوا۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جہاز کے زی بروج پہنچنے سے پہلے ہی اس کے ایک کینٹینر میں یہ افراد داخل کیے جا چکے تھے۔ کیونکہ زی بروج میں ایسا کرنا بلکل ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

’نور سٹریم نامی‘ یہ مال بردار کمرشل جہاز کہاں سے روانہ ہوا تھا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ برطانیہ کی سرحدی سکیورٹی پولیس کے سابق سربراہ سمتھ کہتے ہیں کہ یہ افراد بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم پیشہ گروہ کا شکار ہوئے ہیں۔ انھیں نے کہا کہ ہمیں ایسے غیر قانونی تارکین کو یہ واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ برطانیہ آنے کے لیے قانونی ذرائع موجود ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ انسانوں کی سمگلنگ ہونے کا مطلب ہے کہ لوگ اپنے معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوجاتے ہیں اور اپنے گھر بار اور اپنے ملک چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔ مگر وہ بہت زیادہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔

پولیسں نے ایک مرکز قائم کردیا ہے۔ جہاں سے اپنے رشتے داروں کے بارے میں پریشان افراد معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں