’جولین اسانژ ایکواڈور کا سفارت خانہ چھوڑنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جولین اسانژ وکی لیکس کے بانی ہیں اور ان دنوں لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں محصور ہیں

وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے کہا ہے کہ وہ لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے جلد نکل جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ وکی لیکس کے ترجمان کرسٹین ہرافسن نے انھیں آگاہ کیا ہے کہ دو سال کی پناہ کے بعد اب انھیں سفارتخانہ چھوڑنا ہوگا۔

ہرافنسن نے بعد میں بتایا کہ منصوبہ یہی تھا کہ ’اگر برطانوی حکومت اپنا محاصرہ ختم کر دے تو اسانژ ملک چھوڑ دیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ اسانژ کے لیے جہاز ہمہ وقت تیار ہے اور برطانیہ بین الاقوامی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا محاصرہ ختم کرے تا کہ وہ ملک چھوڑ سکیں گے۔

اسانژ سویڈن میں جنسی ہراسانی کے مقدمے میں تفتیش کے لیے مطلوب ہیں جہاں دو خواتین نے ان پر الزامات لگائے ہیں۔ اسانژ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں سال 2012 میں ایک عدالت نے انھیں سویڈن کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جس کے فوراً بعد انھوں نے ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ حاصل کی جہاں انھیں سفارتی تحفظ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسانژ نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں ایکواڈور کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا

بی بی سی کے کلائیو کولمین کے مطابق 2012 سے اب تک کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے اور اگر اسانژ نے سفارت خانہ چھوڑا تو انھیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔

اسانژ نے کہا کہ ان کی صحت کافی متاثر ہوئی ہے۔

دوسری طرف ایکواڈور کے وزیر خارجہ ركارڈو پٹینو نے بتایا کہ اسانژ کو تحفظ دیاجاتا رہے گا۔

اسانژ کو خدشہ ہے کہ انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا کیوں کہ وکی لیکس نے افغانستان اور عراق کی جنگ سے متعلق بڑی تعداد میں امریکی فوجی دستاویزات عوام کے لیے شائع کی تھیں۔

برطانوی میڈیا میں شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق اسانژ کو دل کا عارضہ لاحق ہے اور ان کے پھیپھڑے بھی متاثر ہیں۔ تاہم اسانژ نے اس بات کی تردید کی کہ وہ سفارت خانہ بیماری کے باعث چھوڑنا چاہ رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر اسانژ کو طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے تو انھیں گرفتار کر کے حراست میں ہی ہسپتال لے جایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسانژ کا کہنا ہے کہ اگر انھوں نے سفارت خانہ چھوڑا تو انھیں سویڈن اور اس کے بعد امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا

اسانژ کی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ہرافنسن نے بتایا کہ ’منصوبہ یہ ہے کہ اسانژ اسی لمحے نکلیں گے جب برطانوی حکومت اپنی بین الاقوامی تعلقات کی ذمہ داری ادا کرنے کا فیصلہ کرے گی اور باہر موجود محاصرہ ختم کرے گی۔ یہ اتنی سادہ سی بات ہے۔‘

برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے ایکواڈور کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’اس مشکل اور مہنگی صورتحال کے خاتمے کے سلسلے میں ان کی مدد کرے۔ ہم اس صورتحال کا سفارتی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’ہم اس حوالے سے واضخ ہیں کہ قوانین کا احترام کیا جائے اور اسانژ کو سویڈن ملک بدر کیا جائے۔‘

اسی بارے میں