جنگ بندی معطل، اسرائیل کے غزہ پر حملے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فریقین کے مذاکرات کار اتوار کو بات چیت کے لیے قاہرہ واپس پہنچے تھے جو اب تک حتمی جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں 24 گھنٹے کی توسیع کا معاہدہ ختم ہوگیا ہے۔

فلسطینی گروپ حماس کا کہنا ہے کہ اس کے عسکری کمانڈر محمد دائف کی اہلیہ اور بچہ تازہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے منگل کو اسرائیلی علاقے پر 50 راکٹ داغے گئے لیکن ان حملوں میں کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔

حکام کے مطابق آٹھ جولائی کو غزہ پر اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک 2016 فلسطینی اور 66 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات بےنتیجہ رہے ہیں اور اسرائیلی مندوبین نے وطن واپسی کا اشارہ دیا ہے۔

فلسطینی مذاکرات کار عظام الاحمد نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’قاہرہ مذاکرات کی ناکامی اسرائیل کا فیصلہ ہے۔‘

ادھر اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک راگیو نے کہا ہے کہ ’جنگ بندی دو طرفہ راستہ ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’غزہ سے مسلسل راکٹ حملوں نے مذاکراتی عمل کو ناممکن بنا دیا تھا اور اس بنیاد کو تباہ کر دیا تھا جس پر یہ مذاکرات شروع ہوئے تھے۔‘

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے منگل کو اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد حملوں کا آغاز کریں جس کے نتیجے میں غزہ پر اسرائیلی حملے شروع کر دیے گئے تھے۔

اس بارے میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ ’حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جس کی مہلت پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ختم ہونی تھی تاہم پیر کو جنگ بندی کے معاہدے میں 24 گھنٹے کی توسیع کی گئی تھی۔

اسی بارے میں