اقوامِ متحدہ کا عراق کے لیے امدادی آپریشن کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق عراقی مہاجرین کو بھیجے جانے والے امدادی سامان میں خیمے اور دیگر اشیا شامل ہوں گی تاکہ عراق میں پھیلتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹا جا سکے

اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے مہاجرین عراق میں جاری لڑائی سے متاثر ہونے والے پانچ لاکھ افراد کے لیے ایک بڑا امدادی آپریشن شروع کر رہی ہے۔

یہ رسد فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے ترکی، اردن، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ذریعے بھیجی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے اس امدادی آپریشن کو بہت اہم قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کے شدت پسندوں نے حالیہ عرصے کے دوران عراق کے شمالی حصوں پر قبضہ کیا ہے اور وہ عراقی اور کرد افواج سے برسرِ پیکار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے خوراک پروگرام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران عراق کی جنگ سے متاثر ہونے والے دس لاکھ سے زائد افراد کو پہلے ہی کھانا کھلا چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق عراقی مہاجرین کو بھیجے جانے والے امدادی سامان میں خیمے اور دیگر اشیا شامل ہوں گی تاکہ عراق میں پھیلتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے عراقی مہاجرین کے لیے امدادی سامان کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب مغربی طاقتوں نے دولتِ مشترکہ کے شدت پسندوں کے پیش قدمی روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے پیر کو کہا تھا کہ کرد افواج نے موصل ڈیم کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اس ڈیم پر رواں برس سات اگست کو قبضہ کیا تھا اور خدشہ تھا کہ وہ شمالی عراق کو پانی و بجلی کی فراہمی کے اس مرکز کو نشیبی علاقہ جات میں سیلاب لانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

سنی شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے رواں برس موسم گرما میں موصل پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے نینوا سے ہزاروں عیسائی اور یزیدی اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے ہیں۔

اسی بارے میں