مزوری میں کشیدگی کے واقعات میں دو افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

امریکی ریاست مزوری کے شہر فرگوسن میں تشدد کے تازہ واقعات اور مظاہروں کے دوران پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور دھوئیں کے گولے داغے ہیں۔

یہ مظاہرے اور تشدد کے واقعات پولیس کی فائرنگ سے ایک سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت کے بعد مسلسل جاری ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے صبر و تحمل کی تلقین کی ہے، جب کہ امریکی اٹارنی جنرل نے بدھ کے روز وہاں کا دورہ کرنے کی بات کہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فساد کش لباس میں ملبوس مسلح پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ پولیس نے تقریباً دس دن قبل ایک سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد وہاں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس آپریشن کے انچارج پولیس چیف رون جانسن نے کہا کہ ’پولیس اس وقت حرکت میں آئی جب مظاہرین نے بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ فائرنگ میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی اٹارنی جنرل ایریک ہولڈر نے فرگوسن میں جاری کشیدگی پر قابو پانے کے لیے وہاں کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ایریک ہولڈر نو جون کو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت کی وفاقی سطح پر تحقیقات کرنے والے حکام سے ملاقات کریں گے۔

دریں اثنا امریکی صدر براک نے فرگوسن کے مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ آپس میں ’ہم آہنگی‘ پیدا کریں۔

فائرنگ کے واقعے سے کئی دن تک فرگوسن میں عدم استحکام رہا۔

ایریک ہولڈر نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بدھ کو بذات خود فرگوسن جا کر ایف بی آئی کے تفتیش کاروں اور وکلا سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس حقیقت کا احساس ہے کہ لوگوں میں مائیکل براؤن کی ہلاکت کی وجوہات جاننے میں دلچسپی ہے۔ لیکن میں لوگوں سے صبر و تحمل کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم یہ تحقیقات کر سکیں۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مائیکل براؤن کی موت کی وجوہات جاننا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے میں ’ایک اہم قدم‘ ہے۔

صدر براک اوباما نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ وہ نوجوان لڑکے کی ہلاکت پر غم و غصے کے اظہار کو سمجھتے ہیں لیکن لوٹ مار کرنے، اسلحہ لے کر گھومنے اور پولیس پر حملے کرنے سے کشیدگی بڑھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔‘

سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو پولیس نے گذشتہ ہفتے گولی مار کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

جس پولیس اہلکار نے مائیکل براؤن پر گولی چلائی تھی انھیں معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔

براؤن کے خاندان والوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ افسر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

براؤن کے خاندان کی طرف سے ایک ڈاکٹر نے مائیکل براؤن کے لاش کی پوسٹ مارٹم کیا ہے جبکہ محکمۂ انصاف کی طرف سے ان کے لاش کا ایک اور پوسٹ مارٹم ہونا ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں