39 ریپ کرنے والا ڈاکٹر گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیلی خواتین کے ادارے کے مطابق 2012 میں ملک میں ہر مہینے اوسطاً 473 عورتوں کا ریپ ہوا

لاٹن امریکی ملک پیراگوائے میں پولیس نے 39 مریضاؤں کو ریپ کرنے والے 70 سالہ برازیلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا۔

عبدل مسیح نامی ڈاکٹر پیراگوائے کے دارلحکومت اسئنسیان کے ایک علاقے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، انھیں پیراگوائے اور برازیل کی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن کے بعد گرفتار کیا۔

پیراگوائے کی پولیس نے انھیں برازیلی سرحد پر حکام کے حوالے کر دیا ہے جہاں سے انھیں ساو پاؤلو منتقل کیا جائے گا۔

ان کی گرفتاری پر ان کے ریپ کا شکار ہونے والی خواتین نے ٹوئٹر اور فیس بک پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

عبدالمسیح کو سب سے پہلے 2009 میں گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے ایک ملازم نے ان کی شکایت برازیلی حکام کو کی تھی۔

اس کے بعد پولیس نے ان کےخلاف 39 خواتین کے ریپ کی شکایات درج کروائیں جس میں متعدد واقعات ان کے کلینک کے اندر پیش آئے۔

کچھ خواتین کے مطابق عبدالمسیح نے ان کے ساتھ بےہوشی کی حالت میں بھی ریپ کیا۔

عبدالمسیح کے بیان کے مطابق وہ کبھی بھی اپنے مری‏‏‏‏ضوں کے ساتھ خالی کمرے میں موجود نہیں تھے اور ان کے مریضوں کے ریپ کے الزامات بےہوشی کے بعد محض تصورات ہیں۔

عبدالمسیح ، جنھیں 2010 میں برازیل میں 278 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی، 2011 میں ساؤ پاؤلو سے فرار ہوگئے تھے۔

وہ اپنی پوری سزا نہیں کاٹ سکیں گے کیونکہ برازیلی قانون کے مطابق انھیں 30 سال سے زیادہ قید نہیں رکھا جا سکتا۔

عبدالمسیح برازیل میں حاملہ خواتین کے لیے ایک کلینک چلاتے تھے اور وہ برازیل میں بہت مقبول تھے۔ انھوں نے وہاں کئی معروف شخصیات کا علاج بھی کیا تھا۔

برازیل میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کیمٹرا کے مطابق صرف 2012 میں ملک میں ہر مہینے اوسطاً 473 عورتوں کا ریپ ہوا۔

اسی بارے میں