جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں 11 افراد ہلاک

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جو منگل کو ختم ہوئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جو منگل کو ختم ہوئی

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیلی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حماس کے جلاوطن رہنما موسیٰ ابومرزق کے مطابق تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حماس کے عزالدین القصام بریگیڈ کے کمانڈر محمد دائف کی اہلیہ اور بچی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ داخلہ کے مطابق یہ حملہ جائز تھا کیونکہ محمد دائف ذاتی طور پر درجنوں ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔

اسرئیل کے وزیر سائنس اور سابق سکیورٹی کے مشیر یاکوو پیری کا کہنا ہے کہ ’اگر مصدقہ خفیہ اطلاعات ہوتیں کہ محمد دائف مکان میں نہیں ہیں تو وہاں کبھی بمباری نہ کی جاتی۔‘

اسرائیل محمد دائف کو ہلاک کرنے کی متعدد کوششیں کر چکا ہے جن کے نتیجے میں وہ معذور ہو چکے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی معلوم نہیں سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

حکام کے مطابق آٹھ جولائی کو غزہ پر اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک 2016 فلسطینی اور 66 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلسطین میں طبی عملے کا کہنا ہے کہ تین افراد غزہ شہر میں منگل کو اسرائیلی طیاروں کی بمباری کا نشانہ بنے۔

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن

اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک 2016 فلسطینی اور 66 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات بےنتیجہ رہے ہیں اور اسرائیلی مندوبین نے وطن واپسی کا اشارہ دیا ہے۔

فلسطینی مذاکرات کار عظام الاحمد نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’قاہرہ مذاکرات کی ناکامی اسرائیل کا فیصلہ ہے۔‘

ادھر اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک راگیو نے کہا ہے کہ ’جنگ بندی دو طرفہ راستہ ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’غزہ سے مسلسل راکٹ حملوں نے مذاکراتی عمل کو ناممکن بنا دیا تھا اور اس بنیاد کو تباہ کر دیا تھا جس پر یہ مذاکرات شروع ہوئے تھے۔‘

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے منگل کو اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد حملوں کا آغاز کریں جس کے نتیجے میں غزہ پر اسرائیلی حملے شروع کر دیے گئے تھے۔

اس بارے میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ ’حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جس کی مہلت پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ختم ہونی تھی تاہم پیر کو جنگ بندی کے معاہدے میں 24 گھنٹے کی توسیع کی گئی تھی۔