ہلاکت کی ویڈیو کی تصدیق، عالمی برادری کی مذمت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو کے ہاتھوں امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی مذمت کی ہے جبکہ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

عراق اور شام میں سرگرمِ عمل جہادی تنظیم دولتِ اسلامیہ نے فولی کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ان کا سر قلم ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ فولی سنہ 2012 میں شام میں لاپتہ ہو گئے تھے۔

ادھر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے امریکی صحافی کے قتل کی ویڈیو جاری کی تھی۔

ادھر فرانس نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور خطے کے دیگر ممالک بشمول ایران دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف اکھٹے ہو جائیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن نے کہا ہے کہ امریکی صحافی کا قتل ایک صدمے ہے۔

ویڈیو میں جیمز فولی کا قاتل بظاہر برطانوی لہجے میں کہتا ہے کہ یہ قتل دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

Image caption یہ ویڈیو ’امریکہ کے نام پیغام‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ہے

برطانیہ کا کہنا ہے کہ سراغ رساں ادارے اس شخص کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی چھٹیاں ادھوری چھوڑ کر واپس آ گئے ہیں۔

ٹوئٹر نے وہ اکاؤنٹ معطل کر دیے ہیں جو اس قتل کی ویڈیو پھیلا رہے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما آج اس بارے میں بیان جاری کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی ترجمان کیٹلن ہیڈن نے کہا: ’اگر یہ ویڈیو صحیح ہے تو ہم ایک بےگناہ امریکی صحافی کی بہیمانہ قتل سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔‘

جمیز فولی کی والدہ نے فیس بُک پر لکھا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جس نے شام کے لوگوں کی تکالیف اور مسائل دنیا کے سامنے لانے کی کوششوں میں اپنی جان گنوائی۔

40 سالہ جیمز فولی مشرقِ وسطیٰ سے گلوبل پوسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت دیگر نیوز اداروں کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔

’امریکہ کے نام پیغام‘ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں صحرائی علاقے میں ایک مغوی کو زمین پر گردن جھکائے دکھایا گیا ہے جس نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور اُس کے قریب ہی سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک مسلح شخص کھڑا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے جنھوں نے شمالی عراق میں ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

ویڈیو میں ایک دوسرے قیدی کو بھی دکھایا گیا ہے جس کا شدت پسندوں نے ایک امریکی رپورٹر کے طور پر تعارف کرایا ہے۔

دولتِ اسلامیہ پر عراق اور شام میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کا قتلِ عام کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

عراق میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً 12 لاکھ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں