امریکی فوج نے’جیمز فولی کو بازیاب کرانے کی کوشش کی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اطلاعات کے مطابق پینٹاگون نے کہا ہے کہ امریکہ کے ایک خفیہ فوجی مشن نے اطلاعات کے مطابق شام میں جیمز فولی سمیت’مغوی امریکی شہریوں کو بازیاب کرانے‘ کی کوشش کی تھی لیکن یہ مشن ناکام ہو گیا تھا۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون نے یہ ظاہر نہیں کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے امریکی صحافی جیمز فولی کو بچانے کی کوشش کی تاہم ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فولی کو بھی بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے منگل کو جیمز فولی کا سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی۔ دولت اسلامیہ کا کہنا تھا کہ جمیز فولی کا قتل امریکی کی طرف سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر بمباری کا بدلہ ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرنا ’تشدد کا ایک ایسا واقعہ جس نے پوری دنیا کی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘ جبکہ برطانیہ اور فرانس نے بھی اس قتل کی مذمت کی تھی۔

پینٹاگون نے نے ایک بیان میں کہا کہ ان مغویوں کی بازیابی کی لیے فضائی و زمینی آپریشن کیا گیا جس کا ہدف دولتِ اسلامیہ کے اغواکاروں کا نیٹ ورک تھا۔

’بدقسمتی سے یہ مشن کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ مغوی ہدف بنائے گئے مقام پر موجود نہیں تھے۔‘

دریں اثنا اوباما انتظامیہ کے سینیئر حکام نے کہا کہ امریکی مغویوں کو بازیاب کرانے کے لیے اس سال موسمِ گرما کے اوائل میں ہوائی جہاز کے ذریعے سپیشل فورسز کے کئی درجن فوجی شام میں اتارے گئے۔

انھوں نےکہا کہ فوجیوں اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی شدت پسند مارے گئے لیکن کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔

Image caption یہ ویڈیو ’امریکہ کے نام پیغام‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ہے

اس سے پہلے صدر اوباما نے جمیز فولی کی قتل کی ویڈیو جاری کرنے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ’سرطان‘ سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا ’نظریہ دیوالیہ‘ ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی ’21ویں صدی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

صدر اوباما اس عہد کا اظہار کیا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کا ’مقابلے کرنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کر سکیں گے۔‘

امریکہ نے حال ہی میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے جنھوں نے شمالی عراق میں ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

فولی سنہ 2012 میں شام میں لاپتہ ہو گئے تھے۔

برطانیہ اور فرانس نے بھی دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو کے ہاتھوں امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی مذمت کی تھی۔

فرانس نے کہا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور خطے کے دیگر ممالک بشمول ایران دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف اکھٹے ہو جائیں۔برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن نے کہا ہے کہ امریکی صحافی کا قتل ایک صدمہ ہے۔

ویڈیو میں جیمز فولی کا قاتل بظاہر برطانوی لہجے میں کہتا ہے کہ یہ قتل دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ سراغ رساں ادارے اس شخص کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی چھٹیاں ادھوری چھوڑ کر واپس آ گئے ہیں۔

جمیز فولی کی والدہ نے فیس بُک پر لکھا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جس نے شام کے لوگوں کی تکالیف اور مسائل دنیا کے سامنے لانے کی کوششوں میں اپنی جان گنوائی۔

40 سالہ جیمز فولی مشرقِ وسطیٰ سے گلوبل پوسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت دیگر نیوز اداروں کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔

’امریکہ کے نام پیغام‘ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں صحرائی علاقے میں ایک مغوی کو زمین پر گردن جھکائے دکھایا گیا ہے جس نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور اُس کے قریب ہی سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک مسلح شخص کھڑا ہے۔

ویڈیو میں ایک دوسرے قیدی کو بھی دکھایا گیا ہے جس کا شدت پسندوں نے ایک امریکی رپورٹر کے طور پر تعارف کرایا ہے۔

دولتِ اسلامیہ پر عراق اور شام میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کا قتلِ عام کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

عراق میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً 12 لاکھ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں