تھائی لینڈ میں فوجی سربراہ وزیراعظم نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جمعرات کو جنرل پرایوتھ کے انتخاب میں تھائی لینڈ کی نیشنل اسمبلی کے تمام 197 ارکان نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے

تھائی لینڈ میں جنتا یعنی حکمران عسکری گروہ کے سربراہ پرایوتھ چان اوچا کو ملک کا نیا وزیراعظم نامزد کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو جنتا کے چنے ہوئے قانون سازوں نے 60 سالہ جنرل پرایوتھ کا انتخاب کیا۔ ان قانون دانوں میں زیادہ تعداد سابق فوجی اور پولیس اہلکاروں کی ہے۔

مئی میں جنرل پرایوتھ نے ملک میں ایک سنسنی خیز فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی اور منتخب حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔

اس کے بعد کئی ماہ تک ملک میں سیاسی کشیدگی جاری رہی جس میں سابق وزیرِ اعظم ینگ لک شناواترا کی حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مظاہروں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جمعرات کو جنرل پرایوتھ کے انتخاب میں تھائی لینڈ کی نیشنل اسمبلی کے تمام 197 ارکان نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے۔

بینگ کاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب صرف رسمی تھا اور صرف 15 منٹ تک جاری رہا کیونکہ جنرل پرایوتھ ہی واحد امیدوار تھے۔

توقع ہے کہ اسمبلی کے انتخاب کو تھائی لینڈ کے بادشاہ جلد ہی منظور کر دیں گے۔

اگرچہ اس عہدے پر تعیناتی ایک عبوری اقدام ہے اور فوج نے 2015 کے آخر میں انتخابات کروانے کا اعلان کر رکھا ہے، ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنرل پرا یوتھ سیاسی طور پر ملک میں سب سے طاقتور انسان ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اپنی کابینہ نامزد کر دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بینگ کاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب صرف رسمی تھا اور صرف پندرہ منٹ تک جاری رہا کیونکہ جنرل پرایوتھ ہی واحد امیدوار تھے

انھوں نے ملک میں سیاست کی بنیادی اصلاحات کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جنرل پرایوتھ کا اصل مقصد ینگ لک شناواترا کی سیاسی جماعت کو ختم کرنا ہے۔

ینگ لک شناواترا کی جماعت گذشتہ 14 سال میں ہر الیکشن جیتی ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کو خود چننے کے علاوہ جنتا نے ایک عبوری آئین بھی جاری کیا ہے جس میں فوج کے اختیارات میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایک قومی اصلاحاتی کونسل بھی تشکیل دی ہے جو کہ نیا آئین دے گی اور یہ نیا آئین مستقل بنیادوں پر جولائی 2015 میں نافذ العمل ہوگی۔

جنرل پرایوتھ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوجی اقتدار ملک میں استحکام لایا ہے۔

اسی بارے میں