دولتِ اسلامیہ سے خطرہ حقیقی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اور جنرل مارٹن ڈیمپسی نے دولتِ اسلامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی چیز کا اخفا نہیں رکھا

امریکی سیکریٹری دفاع چک ہیگل نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعریف کچھ غیر معمولی الفاظ میں کی۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ’ان کا تصور یہ ہے کہ جلد قیامت آنے والی ہے‘ اور کہا کہ وہ ہمارے مفادات کے لیے فوری خطرہ ہیں۔ کیا ہیگل اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے یا واقعی وہ درست ہیں؟

ماضی میں امریکہ کا سامنا متعدد شدت پسند گروہوں سے ہوا ہے اور ان میں سے کئی نے امریکی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ان گروہوں میں سب سے زیادہ موثر القاعدہ تھی جس نے 1998 میں تین امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنایا، جب کہ 2001 میں نیویارک اور واشنگٹن کو طیارے ہائی جیک کر کے نشانہ بنایا۔

گذشتہ ایک دہائی میں القاعدہ کے علاقائی اتحادیوں نے کئی امریکی ہلاک کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر افراد مسلح تصادم والے علاقوں میں ہلاک کیے گئے۔

دوسری جانب دولتِ اسلامیہ امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے قریب بھی نہیں آئی اور اس نے اب تک صرف ایک امریکی کو ہلاک کیا ہے اور وہ ہے صحافی جیمز فولی۔

اس سے قبل دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑنے والے ایک فرانسیسی نے برسلز میں یہودیوں کے میوزیم میں چار افراد کو ہلاک کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ نے القاعدہ کو ایک جانب دھکیل کر اپنے آپ کو عالمی جہاد کا معیار بنا دیا ہے

تاہم رائل یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ میں میرے ساتھی رافائیلو پینتوچی نے کہا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ جیمز فولی اور برسلز میں ہلاکتیں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کی گئیں۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے لڑنے والوں کی یورپی ممالک میں واپسی یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کے لیے بڑا دردِ سر ہے۔

نومبر 2013 میں دہشت گردی کے امور کے ماہر تھامس ہیگیمر نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ ’جدید تاریخ میں کسی بھی مسلح تصادم میں حصہ لینے والا سب سے بڑا یورپی مسلمانوں کا دستہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے اندورنی حلقوں میں امریکہ کی مخالفت امریکی فضائی حملوں کے بعد زیادہ ہوئی

اگر امریکی سیکریٹری دفاع کے پاس کوئی انٹیلی جنس معلومات ہیں تو علیحدہ بات ہے لیکن اس وقت یہ مشکل ہے کہ دولتِ اسلامیہ ’کسی بھی جگہ ہر ایک کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘

عراق ہی کو لے لیجیے۔ عراق میں بھی دولتِ اسلامیہ اربیل اور بغداد میں امریکی فورسز کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔

چک ہیگل کی جانب لفظ ’ناگزیر‘ کا استعمال اس قانونی جواز کو بنانے کے لیے کیا گیا ہے جو امریکی کارروائی کے لیے چاہیے اور امریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت کے بعد امریکی عوام کے تحفظات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیمز فولی کی ہلاکت نے امریکہ کو ہلاکر رکھ دیا

تاہم اس بات کو مان لینا چاہیے دولتِ اسلامیہ جدید تاریخ کی سب سے زیادہ طاقتور جہادی تنظیم ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق اس تنظیم کے پاس اربوں امریکی ڈالر ہیں اور دس ہزار جنگجو ہیں جن میں سے 2000 یورپی باشندے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کا عراق اور شام میں 35 ہزار مربع میل کے علاقے پر کنٹرول ہے اور ان علاقوں میں وہ عراقی فوج سے چھینے گئے جدید امریکی اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں ان کو صدام حسین کے حامی فوجیوں اور سُنی قبائل کی حمایت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ ایک ریاست، ایک فوج اور ایک نظریاتی گروپ ہے

اسی لیے دولتِ اسلامیہ محض ایک دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ مخلوط انقلابی تحریک ہے جو قومی تعمیر کا عزم رکھتی ہے اور اس کی اپنی روایتی فوج ہے۔

یہی چیز ان کو زیادہ غیرمحفوظ بھی بناتی ہے کیونکہ ان کے پاس القاعدہ وغیرہ کے مقابلے پر انفراسٹرکچر ہے جس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہی چیز ان کو زیادہ لچک دار بھی بناتی ہے۔

اس وجہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ چک ہیگل دولتِ اسلامیہ کو کیوں اس قدر خطرناک تصور کرتے ہیں۔

اسی بارے میں