یوکرین میں بلااجازت امداد بھیجنے پر روس کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے امید ظاہر کی ہے کہ آئی سی آر سی اب اس امدادی سامان کو تقسیم کرنے میں مدد کرے گا

مغربی ممالک نے اس روسی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت جنگ زدہ مشرقی یوکرین میں اجازت کے بغیر امدادی سامان لے جانے والی 100 سے زائد لاریوں کو بھیجا جا رہا ہے۔

یورپی یونین اور مریکہ ان لاریوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ نیٹو نے کہا کہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا جبکہ روس کا کہنا ہے کہ امداد دینے میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

روس نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کے فوجی اور توپ خانے یوکرین میں موجود ہیں۔

رس سے امدادی سامان لے جانے والا پہلا ٹرک باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر لوہانسک پہنچ گیا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ بھی روس کے امداد لے جانے والے قافلے کا یوکرین میں داخلے کے معاملے پر بات چیت کے لیے ہنگامی اجلاس کرنے والا ہے۔ یوکرین نے روسی قافلے کے داخلے کو ’حملہ‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالے چیورکین نے کہا کہ روس یوکرین کے فیصلہ سازی کے نظام کا مزید انتظار نہیں کر سکا اور روس کو ضائع ہونے والی اشیا کو بچانے کے لیے قدام اٹھانا پڑا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئی سی آر سی اب اس امدادی سامان کو تقسیم کرنے میں مدد کرے گا۔

دریں اثنا لیتوانیا نے جو روسی اقدامات کا سخت ہے، کہا ہے کہ لوہانسک میں ان کے اعزازی قونصل جنرل کو ’دہشت گردوں‘ نے ہلاک کیا ہے۔ خیال رہے کہ عام طور پر روسی نواز باغیوں کو’دہشت گرد‘ کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین میں نئی حکومت کی جانب سے اپریل کے وسط میں دونیتسک اور لوہانسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج بھیجے جانے کے بعد سے اب تک اس علاقے میں کم از کم 1500 افراد مارے جا چکے ہیں۔

روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور بہت سے بھاگ کر روس چلے گئے ہیں۔

یوکرین کی فوج نے دونیتسک کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کو خوراک اور بجلی کے حصول میں دقتوں کا سامنا ہے۔ حالیہ شورش سے قبل اس شہر کی آبادی دس لاکھ ہوا کرتی تھی۔

اسی بارے میں