طرابلس کے ہوائی اڈے پر اسلام پسند ملیشیا کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جولائی میں اسی ہوائی اڈے پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں 90 فیصد جہاز تباہ ہو گئےتھے

لیبیا میں مسلح گروہوں کے اتحاد نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

بن غازی میں جنگجوؤں کا فوجی اڈے پر قبضہ

طرابلس سے موصول ہونے والے تصاویر میں مسلح افراد کو ایک جہاز کے ملبے پر جشن مناتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مصراتہ اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والی اسلام پسند ملیشیا نے ہوائی اڈے پر زنتان ملیشیا سے جنگ کے بعد قبضہ کیا۔ زنتان ملیشیا کے جنگجو تین برس سے اس ہوائی اڈے پر قابض تھے۔

لیبیا کی نئی پارلیمان نے اسلام پسند جنگجوؤں کی جانب سے اس قبضے کی مذمت کی ہے۔

طرابلس کا یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ گذشتہ ماہ ہونے والی لڑائی کے بعد سے بند ہے۔ جولائی میں اسی ہوائی اڈے پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں 90 فیصد جہاز تباہ ہو گئے تھے۔

بن غازی میں واقع لیبیا کا دوسرا بڑا ایئر پورٹ پچھلے تین ماہ سے بند پڑا ہے۔ اس وقت لیبیا میں صرف مصراتہ کا ایئر پورٹ ہی کام کر رہا ہے۔

لیبیا میں سابق حکمران معمر قذافی کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کرنے والے مسلح گروہوں کے درمیان مسلسل تنازعات جاری ہیں۔ حالیہ لڑائی میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیبیا میں جاری حالیہ پر تشدد کارروائیوں کا مرکز طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بن غازی شہر ہیں۔

اندازوں کے مطابق اس کشیدگی میں صرف جولائی اور اگست کے مہینوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ ہزاروں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی۔

معمر قذافی کی معزولی اور قتل کے تین سال گزرنے کے بعد بھی لیبیا کی پولیس اور فوج ملک میں سرگرم تمام ملیشیا سے زیادہ مضبوط نہیں ہو سکی۔ یہ مسلح گروپ ملک کے زیادہ تر حصّوں پر قابض ہیں۔

لیبیا کی پارلیمان نے کہا ہے کہ طرابلس کے ایئرپورٹ پر قابض گروپ ’دہشت گرد تنظیمیں‘ ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں لڑائی کی وجہ سے توبرخ سے کام کرنے والی پارلیمان نے کئی بار مسلح ملیشیا چلانے والے افراد سے انھیں ختم کرنے اور ملک کی فوج کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے تاہم اس پر چند گروہوں نے ہی عمل کیا ہے۔

اسی بارے میں