اقوامِ متحدہ کا آمرلی میں ممکنہ قتلِ عام کا انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوامِ متحدہ نے شمالی عراق میں آمرلي کے علاقے میں مقامی آبادی کا دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ممکنہ قتلِ عام روکنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نکولئی ملادینوو نے کہا ہے کہ وہ ان علاقوں کے مکینوں کے رہن سہن کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات پر ’بہت زیادہ تشویش‘ کا شکار ہیں۔

یہ قصبے دو مہینوں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے محاصرے میں ہیں اور وہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وہاں خوراک اور ادویات کا ذخیرہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ان قصبوں کے اکثریتی رہائشی افراد ترکمان شیعہ ہیں جنہیں دولتِ اسلامیہ کے لوگ بے دین سمجھتے ہیں۔

ملادینوو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ آمرلي کے علاقے میں صورتحال بہت خطرناک ہے اور ہم فوری کارروائی چاہتے ہیں تاکہ اس کے شہریوں کے ممکنہ قتلِ عام کو روکا جا سکے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’میں عراقی حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان محصور لوگوں کو بچانے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں تاکہ اس علاقے کے رہائشی افراد زندگی بچانے کے لیے درکار امداد حاصل کر سکیں اور انہیں باعزت طریقے سے اس علاقے سے نکالا جا سکے۔‘

جمعے کو عراق کے سب سے بڑے شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی نے ان قصبوں کے رہائشی افراد کی حالتِ زار پر تشویش ظاہر کی تھی۔

ان قصبوں کے رہائشی افراد کا کہنا ہے انہیں جنگجوؤوں کے خلاف خود ہی مزاحمت کرنی پڑی ہے اور انہیں کسی قسم کی بیرونی امداد اب تک نہیں ملی ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے دولتِ اسلامیہ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا تصور یہ ہے کہ جلد قیامت آنے والی ہے‘ اور کہا کہ وہ ہمارے مفادات کے لیے فوری خطرہ ہیں۔

اسی بارے میں