آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹنے پر ریڈ الرٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھ ماہرین کے مطابق پگھلتی ہوئی برف سے مستقبل میں بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کا خدشہ ہے۔

آئس لینڈ کے سب سے بڑے گلیشیر وتنایوقل کے نیچے آنے والے زلزلے کے بعد ایک آتش فشاں کے پھٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر ملک کے فضائی حدود کے نگران ادارے نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس گلیشیر کی سطحے کے نیچے ایک چھوٹا آتش فشاں ہے جس کے نتیجے میں زلزلہ آیا ہے۔

تیس کلو میٹر دور ’بوؤردربونگا‘ نامی آتش فشاں پہاڑ کے قریب زلزلے آ رہے ہیں۔

بوؤردربونگا اور وتنایوقل ایک بڑے آتش فشانی نظام کا حصہ ہیں اور یہ ایک 500 کلومیٹر کی چوڑائی کے گلیشیر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کے قریب کی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا ہے تاہم آئس لینڈ کے باقی تمام ہوائی اڈے ابھی تک کھلے ہیں۔

پورے یورپ میں اس حوالے سے فضائی الرٹ کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

یورپ کی فضائی تحفظ کی ایجنسی یوروکنٹرول نے کہا ہے کہ وہ آتش فشاں کی صورتحال پر ہر چھ گھنٹے بعد ایک اپ ڈیٹ پیش کرتے رہیں گے۔

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ تاریخ کا سب سے بڑا ایسا واقع تھا جس سے فضائی سفر بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے۔

اپریل 2010 کے اس واقع کے نتیجے میں 1.5 اور 2.5 بلین یوروز کےدرمیان نقصان ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کے روز آتش فشاں پہاڑ کے علاقے سے 300 تک کے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا

حال ہی میں دیے جانے والا ریڈ الرٹ ملک میں خطرے کی درجہ بندی میں سے اوپر درجے کا انتباہ ہے۔

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات کے مطابق سائنسدانوں کی ایک ٹیم آتش فشانی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے ہفتے کے روز متاثرہ خطے میں جائے گی۔

پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ ’اس وقت زلزلے کو ایک معمولی واقع کے طور پرلیا جا رہا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گلیشیر کی برفانی سطح کے دباؤ کی وجہ سے ابھی کہا نہیں جا سکتا کہ آتش فشاں دبا رہے گا یا پھٹ کر نکلے گا۔‘

برطانوی ایئرلائن ورجن ایٹلانٹک نے اپنی لندن سے سان فرانسسکو جانے والی ایک پرواز کا راستہ احتیاطی طور پر بدل دیا ہے۔ ایئر لائن کا کہنا ہے کہ ان کی دیگر پروازیں نارمل طور پر چل رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا

برطانیہ کی ا یک اور فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر ’نظر رکھ رہے ہیں‘ لیکن ابھی تک ان کی پروازیں معمول کے مطابق چلتی رہیں گی۔ برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ملک کی کوئی بھی پرواز تب تک متاثر نہیں ہو گی جب تک کہ کوئی آتش فشاں اپنی سطح کو چھو کر پھٹتا نہیں ہے۔

آئس لینڈ میں پہلے حکام خبردار کر چکے ہیں کہ آتش فشاں کے پھٹنے سےملک کے شمالی علاقے میں سیلاب آنے کے امکان ہیں۔

بدھ کے روز آتش فشاں کے پھٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر حکام نے علاقے کے لوگوں کو علاقے سے نکال لیا تھا۔

اسی بارے میں