نائجیریا کے ہزاروں فوجی کیمرون ’فرار‘ ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گروہ نے قصبے کے روایتی حکمران کے محل پر ’امیرِ گووزا‘ کے نام کے پرچم لگا دیے ہیں

نائجیریا کے ہمسایہ ملک کیمرون کی فوج نے کہا ہے کہ نائجیریا کے تقریباً پانچ سو فوجی اسلام پسند جنگجو گروہ بوکو حرام کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد فرار ہو کر کیمرون میں داخل ہو چکے ہیں۔

کیمرون کی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل دیدئر باجیک کا کہنا تھا کہ 480 مفرور فوجیوں کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے اور انھیں ایک سکول میں رہائش دے دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی نائجیریا میں سرحدی قصبے گمبورو نگالا میں ابھی بھی لڑائی ہو رہی ہے۔

نائجیریا کی حکومت نے سنہ 2003 میں اپنی تین شمال مشرقی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، لیکن علاقے میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود گذشتہ چند ماہ کے دوران یہاں نہ صرف مزاحمت جاری رہی ہے بلکہ اس میں شدت آ چکی ہے۔ گذشتہ ہفتے فوجیوں کے ایک گروہ نے بوکوحرام کے خلاف لڑنے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان فوجیوں کا کہنا تھا کہ بوکو حرام کے شدت پسندوں کے پاس اُن سے بہتر اسلحہ ہے۔

کیمرون کی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ فرار ہونے والے فوجی اب نائجیریا کی سرحد سے 50 میل دور مارووا نامی قصبے میں پہنچ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نائجیریا کے ہزاروں عام شہری بھی فرار ہو کر سرحد پار کیمرون پہنچ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کو بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں وہ رواں ماہ کے ابتدائی دنوں میں اپنے ساتھیوں کو ’گووزا‘ نامی قصبے پر قبضہ کرنے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔

بوکو حرام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے شمال مشرقی نائجیریا کے جن شہروں اور قصبوں پر قبضہ کیا تھا وہاں اسلامی ریاست قائم کر دی گئی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ابوبکر شیکاؤ نے اس دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے یا نہیں جو عراق اور شام کے کئی علاقوں کو اپنے زیر نگین کر چکی ہے۔نائجیریا کی فوج نے بوکو کرام کے دعوے کو ’کھوکھلا‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیاتھا۔

بوکو حرام نے اپنی پر تشدد کارروائیوں کا آغاز سنہ 2009 میں کیا تھا اور اب تک شمال مشرقی نائجیریا میں ہزاروں لوگوں کو ان کارروائیوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

آخری مردم شماری کے مطابق گووزا کی آبادی دو لاکھ 65 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور یہ بوکوحرام کے زیر تسلط آنے والا سب سے بڑا قصبہ ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام پسند جنگجو گروہ نے قصبے کے روایتی حکمران کے محل پر ’امیرِ گووزا‘ کے نام کے پرچم لگا دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجیریا کے ہزاروں عام شہری بھی فرار ہو کر سرحد پار کیمرون پہنچ چکے ہیں

یاد رہے کہ گووزا چیبوک نامی اس قصبے سے زیادہ دور نہیں جہاں اس سال اپریل میں بوکو حرام نے سکول کی دو سو بچیوں کو اغوا کر لیا تھا۔

ابوبکر شیکاؤ نے جولائی میں جاری کی جانے والی اپنی آخری ویڈیو میں اگرچہ نئی اسلامی ریاست کو مبارکباد دی تھی لیکن انھوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔

دوسری جانب نائجیریا کی پولیس نے بتایا ہے کہ وہ ابھی تک ان 35 پولیس اہلکاروں کو تلاش کر رہے ہیں جوگذشتہ ہفتے اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب بوکو حرام نے گووزا کے قربی قصبے لیمان میں پولیس کی ایک تربیت گاہ پر حملہ کر دیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے پولیس کے کالج پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم انھیں یہ معلوم نہیں کہ کالج اب کس کے کنٹرول میں ہے۔

اسی بارے میں