بیمار نمازیوں کا مددگار ’جائے نماز سٹول‘

Image caption بیٹھنے پر جسم کا پورا بوجھ اس گدّی پر چلا جاتا ہے اور آپ گھٹنے کے درد سے بچ جاتے ہیں: ڈاکٹر سلیمان موریا

برطانوی شہر بریڈ فورڈ کے ایک ڈاکٹر نےگھٹنے یا جوڑوں کے درد میں مبتلا مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی میں مدد دینے والی گدّی تیار کی ہے۔

ان تکالیف میں مبتلا افراد روایتی طریقے سے فرش پر جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان موريا خود گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہیں اور اس خاص سٹول کو تیار کرنے میں انھیں چار سال لگے۔

ڈاکٹر موريا نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا: ’نماز کے دوران گھٹنے ٹیکنے سے پہلے اس گدی کو پیروں کے درمیان فرش پر رکھنا پڑتا ہے اور جب آپ بیٹھتے ہیں تو جسم کا پورا بوجھ اس گدّی پر چلا جاتا ہے اور آپ گھٹنے کے درد سے بچ جاتے ہیں۔‘

Image caption یہ گدیاں بریڈ فورڈ کی سات مساجد میں تقسیم کی گئی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ گدیاں بریڈ فورڈ کی سات مساجد میں تقسیم کی ہیں اور ’لوگوں نے انھیں بہت پسند کیا ہے۔‘

قدرت شاہ بھی ایسے ہی ایک نمازی ہیں جوگھٹنوں کے درد کی وجہ سے گذشتہ ڈیڑھ سال سے فرش پر جائے نماز بچھا کر نماز نہیں پڑھ پا رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں گھٹنوں کے بل نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ جب امام لمبی نماز پڑھاتے تھے تو میں بہت دیر تک نہیں بیٹھ پاتا تھا اور ایمانداری سے کہوں تو دل ہی دل نماز جلد ختم کرنے کو کہتا تھا۔‘

اس گدّی کی بدولت اب وہ ایک بار پھر مصلے پر نماز پڑھ پا رہے ہیں اور انھیں کسی قسم کے درد کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑ رہا۔

تاہم اس گدّی کے خالق ڈاکٹر موریا کا کہنا ہے کہ یہ گھنٹے کی تمام تکالیف کے مریضوں کے مسئلے کا حل نہیں ہے: ’اسے ہر کوئی استعمال نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کے لیے آپ گھٹنوں کے بل تو جھکنا ہی پڑتا ہے۔‘