روس کا مشرقی یوکرین میں دوبارہ امداد بھیجنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشرقی یوکرین میں صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی جا رہی ہے: سرگے لاورف

روس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’آئندہ چند روز میں‘ ایک مرتبہ پھر انسانی بنیادوں پر امداد کے تحت مشرقی یوکرین کے باشندوں کے لیے سامان بھیجے گا۔

سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

اس سے قبل روس نے یوکرین کی اجازت کے بغیر 300 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مشرقی یوکرین بھیجنا چاہا تھا جسے واپس کر دیا گیا تھا اور یوکرینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس قافلے کے ذریعے باغیوں کو ہتھیار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں گذشتہ چند ماہ میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

روس اور یوکرین کے صدور منگل کو اس بحران پر بات چیت کے لیے بیلاروس میں ملاقات کر رہے ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ انھوں نے اتوار کو یوکرین کی وزارتِ خارجہ کو اس نئے قافلے کے بارے میں اطلاعی نوٹ بھیجا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی ریڈکراس تنظیم کا کہنا ہے کہ دونیتسک میں رہائشیوں کو پانی اور بجلی کے حصول میں دقتیں پیش آ رہی ہیں

پیر کو ماسکو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشرقی یوکرین میں ’صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر صورت میں ایک معاہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ پرانے راستے سے ایک دوسرا قافلہ آنے والے دنوں میں بھیجا جا سکے۔‘

مغربی ممالک روس کو متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کو مشرقی یوکرین پر حملے کے بہانے کے طور پر استعمال نہ کرے۔

ادھر بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے تسلیم کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات نازک ہیں اور ہزاروں لوگوں کو پانی، بجلی اور دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔

روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور بہت سے بھاگ کر روس چلے گئے ہیں۔

یوکرین کی فوج نے دونیتسک کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کو خوراک اور بجلی کے حصول میں دقتوں کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں