شام دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی مدد کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا مرکز ہے: ولید معلم

شام کے وزیرِ خارجہ وليد معلم نے شام اور عراق میں سرگرم عمل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند گروپ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کو مدد کی پیشکش کی ہے۔

ولید معلم نے کہا کہ ان کا ملک شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ شام کی حدود میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی کسی بھی فضائی کارروائی شروع کرنے سے پہلے شامی حکومت سے تعاون کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی حکومت سے تعاون کے بغیر کی جانے والی کوئی بھی کارروائی جارحیت تصور کی جائے گی۔

وليد معلم نے کہا ’شام دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا مرکز ہے۔‘

خیال رہے کہ شامی حکومت کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف یہ پہلا باضابطہ بیان ہے۔

شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بین الاقوامی حملوں کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے لیکن مغربی ملک شام کی موجودہ حکومت سے تعاون پر راضی نہیں ہیں۔

امریکہ نے حالیہ عرصے میں اس گروہ کے خلاف عراق میں فضائی کارروائیاں کی ہیں لیکن اس نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں تین برس سے جاری تنازعے میں اس سال اپریل تک 1,91,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بشار الاسد مستعفی ہو جائیں۔

اسی بارے میں