روسی فوجیوں نے’غلطی سے‘ یوکرین کی سرحد پار کی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گرفتاری کہ بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک روسی فوجی کہ رہا ہے کہ ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے‘

روسی فوجی حکام نے کہا ہے کہ وسطی یوکرین میں پکڑے جانے والے روسی فوجیوں نے یوکرینی سرحد ’غلطی سے‘ پار کی تھی۔

روسی حکومتی ادارے ریا نوستی کے مطابق روسی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ان کے فوجی معمول کے مطابق سرحد پر گشت کر رہے تھے جب انھوں نے ’غلطی سے‘ سرحد پار کر لی۔

روسی فوجی حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے فوجیوں نے کسی قسم کی مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب تک روسی فوج نے 500 یوکرینی فوجیوں کو متعدد بار سرحد پار کرتے ہوئے پکڑا ہے لیکن انھوں نے اس بات کو زیادہ ہوا نہیں دی۔ ہم نے ان فوجیوں کو واپس جانے دیا جو واپس جانا چاہتے تھے۔‘

یوکرین نے پیر کو کہا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں 10 روسی فوجیوں کو دونتسک سے 50 کلومیٹر دور زرکلنے نامی گاؤں کے قریب گرفتار کیا تھا۔

یوکرین کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی یہ حرکت محض ایک غلطی نہیں تھی بلکہ ایک بہت خاص مشن تھا۔

یوکرین کے ایک ٹی وی چینل نے فوجیوں کا تعلق سورسک کی 98 فضائی ڈویژن کی 331 یونٹ سے بتایا ہے۔

گرفتاری کہ بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں سارجنٹ اینڈریلیو نامی ایک روسی فوجی نے کہا کہ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور ہمارے فوجیوں کو یہاں بھیجنا بند کیا جائے۔ اگر ہم یہاں نہیں آتے تو یہ نہیں ہوتا۔‘

ایوان ملککاوچ نامی ایک اور فوجی نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہم سرحد پار کر رہے ہیں۔ ہمیں صرف تین دن میں 70 کلومیٹر مارچ کرنے کا کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب یوکرین کے صدر پیٹر پوروشنکو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سےمذاکرات کر رہے ہیں۔

یوکرین نے روس نواز علیحدگی پسند باغیوں کے خلاف جنگی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

اس سے قبل صدر پوروشنكو نے پارلیمان کو تحلیل کر کے ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں گذشتہ چند ماہ میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے

پیٹرو پوروشنكو کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے متعدد ارکان معزول کیے جانے والے صدر وکٹر یانوکووچ کے حامی تھے جبکہ یوکرین کی اکثریت نئے پارلیمان چاہتی تھی۔

پیٹرو پوروشنكو نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتخابات 26 اکتوبر کو ہوں گے۔

پیر کی رات گئے اپنے خطاب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ انھوں نے ملک کے آئین کے مطابق عمل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکمران اتحاد 30 دن تک پارلیمان میں حکومت نہ بنا سکے تو ہر صورت نئے انتخابات منعقد کروائے جائیں۔

دوسری جانب یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی روس سے آنے والی بکتر بندگاڑیوں میں موجود باغیوں سے جھڑپ ہوئی ہے۔ یوکرین کی فوج کے مطابق یہ بکتر بندگاڑیاں ملک کے جنوب مشرقی پورٹ کی جانب جا رہی تھیں۔

روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور بہت سے بھاگ کر روس چلے گئے ہیں۔

یوکرین کی فوج نے دونیتسک کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کو خوراک اور بجلی کے حصول میں دقت کا سامنا ہے۔

مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں گذشتہ چند ماہ میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں