حماس اور اسرائیل طویل المدتی جنگ بندی پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption حالیہ بحران میں 22 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت فلسطینی شہریوں کی ہے

مصر اور فلسطین کے حکام کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا طویل المدتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سات ہفتوں کے جنگ اور 2200 افراد کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے نئے معاہدے پر گرینج کے معیاری وقت کے مطابق چار بجے عمل درآمد شروع ہو گا۔

غزہ میں کون اور کہاں مارا گیا؟

حماس کے سیاسی رہنما موسیٰ اب مرزوق نے معاہدے کو’ مزاحمت کی فتح‘ قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

بظاہر فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا جب ان کے ایک دوسرے پر حملے جاری تھے۔

اسرائیل کے طبی عملے کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے غزہ سے داغے جانے والے ایک راکٹ میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ اس سے پہلے منگل کو ہی اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اتوار کو فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور حماس سے کہا ہے کہ وہ مصر میں دوبارہ مذاکرات شروع کریں۔اس کے جواب میں مصری وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مصر ایسی کسی بھی بات چیت میں دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔

قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ منگل کو اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔

اسرائیل نے آٹھ جولائی کو غزہ سے راکٹ داغنے کے واقعات کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد غزہ میں حماس کی سرنگوں کو تباہ کرنے کا ہدف بھی فوجی مشن کا حصہ بن گیا۔

فلسطین کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے حملوں میں 2138 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاک ہونے والے افراد میں سے زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران تین عام شہریوں اور 64 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

اسی بارے میں