عمران فاروق قتل کیس: ایم کیو ایم کا کارکن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا

برطانوی دارالحکومت لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے کیس میں مشرقی لندن کے علاقے والتھم سٹو سے ایک 30 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام نے بی بی سی کو گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے تاہم ملزم کی شناخت بتانے سے انکار کیا ہے، لیکن ان کے بقول اسے تفتیش کے لیے مرکزی لندن کے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما محمد انور نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم برطانیہ کے ایک کارکن کو لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوۓ محمد انور کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کے کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت ہمارے وکلا پولیس سٹیشن میں موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے کارکن کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں اور ہم اس وقت صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

لندن پولیس کے مطابق عمران فاروق قتل میں مطلوب دو افراد کاشف خان کامران اور محسن علی سید قتل کے بعد برطانیہ سے فرار ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے رواں سال مئی میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں مطلوب دو افراد کی تصاویر جاری کی تھیں۔

میٹ پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہے جب کہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچے تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے سٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر 2012 کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔

اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس رقم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی گئی۔

پولیس نے 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مارا گیا تھا اور اس میں پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔

چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کے کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ستمبر سنہ 2010 میں لندن کے شمالی علاقے میں ڈاکٹر عمران فاروق کو ان کے گھر کے باہر سر پر اینٹ کا وار کر کے اور پھر پیٹ میں چھری مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات تھیں کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے اس قتل کے سلسلے میں چار ہزار افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی ہے جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے بھتیجے افتخار حسین کو عارضی طور پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس کا خیال تھا کہ وہ اپنا سیاسی کریئر از سرِ نو شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ پولیس اس سلسلے میں ان کے جولائی 2010 میں بنائے گئے نئے فیس بک پروفائل اور بہت سے نئے روابط کو اہم قرار دے رہی تھی۔

اسی بارے میں