’دولت اسلامیہ شام میں جنگی جرائم کی مرتکب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دس سال کی عمر کے بچوں کو دولتِ اسلامیہ کے تربیتی مراکز میں بھرتی کیا جا رہا ہے

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے شام میں ’بڑے پیمانے پر مظالم‘ کا ارتکاب کیا ہے جن میں بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنا بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ نے شامی حکومت پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آٹھ مختلف مواقع پر مغربی شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنے ان الزامات کا اظہار اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے جس کا مقصد اس سال جنوری اور جولائی کے درمیانی عرصے میں شام میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینا تھا۔

مذکورہ رپورٹ ان چھ ماہ میں کیے جانے والے انٹرویوز اور دوسرے شواہد پر مبنی ہے اور یہی وہ عرصہ ہے جس میں شام میں دولتِ اسلامیہ اپنا اثر و رسوخ پھیلانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ شام کے خاصے حصے پر قابض ہے، اور ان گروہوں میں سے ایک ہے جو شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں خانہ جنگی اب چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ شام اور عراق کے کئی علاقوں میں ایک آزاد اسلامی ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے علاوہ خطے کے کئی ممالک سے جہادی نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔

بچوں کی فوجی تربیت

اقوام متحدہ کے بقول دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شمالی شام کی آبادیوں میں سرِ عام لوگوں کو قتل کر کے، کوڑے مار کر یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر آبادیوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کےتفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے کئی بار لوگوں کو شہریوں کے سامنے سرِعام قتل کیا ہے جسے بچوں کو بھی دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہلاک شدہ افراد کی لاشیں سرِ عام بازاروں میں نمائش کے لیے لگا دی جاتی ہیں جو کئی دنوں تک لٹکی رہتی ہیں اور مقامی آبادی کو خوفزدہ کرتی رہتی ہیں۔

عورتوں کو دولتِ اسلامیہ کے بیان کردہ لباس کی خلاف ورزی کرنے پر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ رقہ صوبے میں دس سال کی عمر کے بچوں کو دولتِ اسلامیہ کے تربیتی مراکز میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔‘

صدر بشارالاسد کی حکومت کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس سال اپریل اور مئی میں آٹھ مخلتف مواقع پر زہریلی کلورین گیس کا مبینہ استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ شامی فضائیہ نے بیرل بموں کا بھی استعمال کیا اور یہ عام آبادیوں پر گرائے گئے۔

پاؤلو پِنیرو اس کمیشن کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اس سارے عمل کے پورے خطے پر بدترین اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام کا شہر حلب جو خانہ جنگی کے نتیجے میں تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے

انھوں نے کہا کہ ’عالمی برادری کی اپنی انتہائی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے جن میں عام شہریوں کا تحفظ، ظالمانہ کارروائیوں کو روکنا اور احتساب کے لیے راستہ ہموار کرنا شامل تھے۔ سب کچھ اس حد تک حالات کے رحم و کرم پر ہے کہ اب عالمی قوانین کی پاسداری کا دکھاوا تک نہیں رہا۔‘

اس کمیشن کے تفتیش کاروں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع پہلے ہی عراق تک پھیل چکا ہے اور اب تمام خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں