یوکرین میں ’ہزاروں‘ روسی فوجی موجود

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے

یوکرین کے صدر پیترو پوریشنکو نے یہ کہتے ہوئے اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے کہ ملک کے مشرق میں ’روسی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دونیتسک کے علاقے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر انھیں ملک ہی میں رہنا چاہیے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس نواز باغیوں نے نووازووسک نامی ساحلی قصبے پر قبضے کے بعد دفاعی لحاظ سے اہم شہر ماریوپول کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ یوکرین اور روس کے صدور کے درمیان بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مشرقی یوکرین کے بحران پر ہونے والے پہلے براہِ راست مذاکرات میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

اس سے قبل یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں دس روسی فوجیوں کو دونتسک سے 50 کلومیٹر دور زرکلنے نامی گاؤں کے قریب گرفتار کیا تھا۔

روسی حکومتی ادارے ریا نوستی کے مطابق روسی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ان کے فوجی معمول کے مطابق سرحد پر گشت کر رہے تھے کہ انھوں نے ’غلطی سے‘ سرحد پار کر لی۔

روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں گذشتہ چند ماہ میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

ادھر بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے تسلیم کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات نازک ہیں اور ہزاروں لوگوں کو پانی، بجلی اور دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔

اسی بارے میں