افغانستان: جام مینار ’گرنے کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ دنیا بھر میں اینٹوں سے بنے ہوئے میناروں میں اونچائی کے لحاظ سے دوسرا بڑا مینار ہے

افغانستان میں حکام کو خدشہ ہے کہ ملک کی تعمیراتی تاریخ کا شاہکار ’جام مینار‘ زمین بوس ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق صدیوں کی بے توجہی اور سیلابوں کی وجہ سے ملک کے دور دراز صوبے غور میں واقع آٹھ سو سالہ قدیم مینار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

جام مینار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں اینٹوں سے بنے ہوئے میناروں میں اونچائی کے لحاظ سے دوسرا بڑا مینار ہے جس کی اونچائی 65 میٹر (213 فُٹ) ہے۔

اقوام متحدہ پہلے ہی اس مینار کو آثار قدیمہ کی عالمی فہرست میں شامل کر چکا ہے، لیکن افغانی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت کے پاس اس اثاثے کو محفوظ رکھنے کے لیے رقم موجود نہیں ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ مزید سیلاب اسے زمین بوس کر دیں گے۔

جام مینار کو سب سے بڑا خطرہ اس بات سے ہے کہ یہ اونچے پہاڑوں کے درمیان ایک دریائی وادی میں واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ مینار کی اینٹیں گر رہی ہیں اور مینار ایک جانب جھُک چکا ہے

حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ برس کے سیلابوں سے مینار کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ مینار کو بچانے کے لیے اسے ایک نئی دیوار تعمیر کر کے سہارا بھی دیا گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ مینار کو محفوظ رکھنے کے ایسے اقدامات ناکافی ہوں گے۔

جام مینار اینٹوں کی پیچ در پیچ خوبصورت ترتیب اور اس پر کندہ نقش و نگار کے لیے مشہور ہے، لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ 20 سے 30 فیصد اینٹیں گر چکی ہیں اور مینار خود ایک جانب جھُک چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق مینار کے استحکام کو سب سے زیادہ نقصان قریبی دریا میں سیلاب اور وادی میں غیر قانونی کھدائیوں سے پہنچ رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ 1194 میں مینار کی تعمیر کے بعد کبھی بھی اس کی تعمیر نو کے لیے کوئی بڑا کام نہیں کیا گیا ہے۔

ایک زمانے میں یہ مینار بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوا کرتا تھا لیکن اب اس علاقے میں سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے سیاح بہت کم ہی یہاں آتے ہیں۔

صوبہ غور میں افغانستان کے تہذیبی اثاثوں کی حفاظت کے لیے سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے صدر کو یہاں آ کر مینار کی حالتِ زار دیکھنا چاہیے اور اسے بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔

اسی بارے میں