جارج گیلووے کے حملہ آور کے خلاف مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ Respect twitter
Image caption یہ تصویر جارج گیلووے کی جماعت ’ریسپکٹ‘ نے ٹوئٹر پر جاری کی ہے جوان پر حملے کے فوراً بعد لی گئی تھی

بریڈ فورڈ سے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور اسرائیل کے ناقد جارج گیلووے پر حملہ کرنے والے شخص کے خلاف مذہبی منافرت کی بنا پر حملہ کرنے کے جرم میں مقدمہ چلے گا۔

جارج گیلووے جمعے کے روز لندن میں اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب ایک شخص نے ان پر اس وقت اچانک حملہ کر دیا جب وہ کچھ لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے۔

جارج گیلووے کو چہرے پر خراشیں آئیں اور ان کی کچھ پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

پولیس نے 39 سالہ حملہ آور نیل میسٹرسن کو موقعے پر ہی گرفتار کر لیا تھا۔

نیل میسٹرسن پر نہ صرف جارج گیلووے پر حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلےگا بلکہ ایک دوسرے شخص پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے جس نے جارج گیلووے کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

لندن کے علاقے کیمڈن ہل کے رہائشی نیل میسٹرسن کو پیر کےروز ہمیرسمتھ مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

جارج گیلووے کے ترجمان کے مطابق: ’جارج لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے جب اس شخص نے ان پر حملہ کر کے ان کو گھونسے مارنے شروع کر دیے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ جارج کی جانب سے اسرائیل پر تنقید سے وابستہ ہے کیونکہ حملہ آور اس وقت نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے بارے میں چیخ رہا تھا۔‘

یاد رہے کہ جارج گیلووے اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حالیہ حملوں پر بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جلوس نکالے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں پولیس نے جارج سے اس وقت پوچھ گچھ کی تھی جب انھوں نے اسرائیل کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا۔

انھوں نے بریڈفورڈ میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے بریڈفورڈ کو ’اسرائیل سے پاک علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اسرائیلی مصنوعات، سیاحوں اور دیگر سروسز کا بائیکاٹ کریں۔