عراقی فوج امرلی میں داخل ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آپریشن میں عراقی فوج، شیعہ جنگجو اور کردش پیشمرگا فوج کے دستوں نے دولتِ اسلامیہ پر دو طرف سے حملہ کر کے برتری حاصل کی

عراق میں فوج ملک کے شمال میں واقع امرلی کے علاقے میں داخل ہو گئی ہے جہاں پر شدت پسند گروہوں نے علاقے کا محاصرہ کر کے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

عراقی فوجی حکام بی بی سی عربی کو بتایا کہ عراقی فوج اور رضاکار دستے اتوار کو امرلی کے علاقے میں داخل ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے 15 شدت پسندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے شمالی عراق کے پانچ صوبوں کے بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور امرلی میں ترک شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار مقامی افراد کو دو ماہ سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

عراقی فوج کے جنرل قاسم عطا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی فوج نے امرلی میں داخل ہو کر دولتِ اسلامیہ کا محاصرہ ختم کر دیا ہے۔

واضع رہے کہ عراقی فوج کی یہ پیش رفت امریکہ کی حالیہ بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔

سنیچر کو شروع ہونے والے اس آپریشن میں عراقی فوج، شیعہ جنگجو اور کردش پیشمرگا فوج کے دستوں نے دولتِ اسلامیہ پر دو جانب سے حملہ کر کے برتری حاصل کی۔

ترجمان کے مطابق یہ اب تک دولتِ اسلامیہ کے خلاف کیا جانے والا سب سے بڑا آپریشن ہے۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل اقوامِ متحدہ نے علاقے میں مقامی آبادی کا قتلِ عام روکنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے مہاجرین عراق میں جاری لڑائی سے متاثر ہونے والے پانچ لاکھ افراد کے لیے ایک بڑا امدادی آپریشن بھی شروع کر رہی ہے۔

یہ رسد فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے ترکی، اردن، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ذریعے بھیجی جائے گی۔

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی عراق کے مختلف علاقوں میں فضا کے ذریعے خوراک اور دیگر اشیا بھیج رہا ہے۔

اسی بارے میں