خاتون اہلکار برہنہ سیلفیز ٹویٹ کرنے پر نوکری سے فارغ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ معلوم نہیں کہ خاتون نے اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا

سوئٹزرلینڈ میں پارلیمان کی ایک خاتون اہلکار کو خود کھینچی ہوئی برہنہ تصاویر یا سیلفیز ٹوئٹر پر شائع کرنے کی وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

سوئس پارلیمان کی پارلیمان میں ایک سیکریٹری کے عہدے پر کام کرنے والی خاتون نے، جن کا نام نہیں بتایا گیا، اپنے دفتر میں کئی برہنہ سیلفیز بنا کر اسے ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا تھا۔

پارلیمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ’پارلیمان کے وقار کو خطرے میں ڈالنے کے بعد خاتون اہلکار کی نوکری کو باہمی رضامندی سے ختم کر دیا گیا۔‘

حکام نے اس وقت اس واقعے کی تحقیقات شروع کیں جب کسی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ تصاویر دارالحکومت برن میں واقع سوئس پارلیمان میں لی گئی تھیں۔

پارلیمان کی طرف سے پیر کی صبح جاری بیان میں کہا گیا کہ خاتون اہکار کی نوکری کو ختم کرنے دونوں فریقین کے مفاد میں تھا کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی قابل نہیں رہی تھیں۔

خاتون اہلکار نے گذشتہ ہفتے سوئس اخبار این زی زی کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں تصاویر شائع کرنے سے کسی قاعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔

ان تصاویر کو ٹوئٹر پر شائع کرنے کے باوجود، جہاں ان کے 11000 فالوورز ہیں، خاتون نے کہا کہ یہ تصاویر ان کی نجی زندگی کا حصہ ہیں۔

لیکن پارلیمان نے اپنے عملے کو دیے گئے تجاویز میں کہا ہے کہ وہ صرف وہی تصاویر اور الفاظ شائع کر سکتے ہیں جنھیں وہ اپنے دیگر ساتھیوں کو دکھانے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے ساتھیوں نے ان کی برہنہ تصاویر دیکھ لی ہوں تو وہ کیسا محسوس کریں گی، تو انھوں نے این زی زی کو بتایا کہ ’یہ مسئلہ میرے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔‘

یہ معلوم نہیں کہ خاتون نے اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

اسی بارے میں