ہماری پہنچ دور تک ہے اور انصاف کیا جائےگا: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ اس سے خوف زدہ نہیں ہو گا: صدر براک اوباما

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکی صحافی سٹیون سوٹلفوف کا سر قلم کرنے کی ویڈیو کی تصدیق کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اس سے خوف زدہ نہیں ہو گا۔

صدر اوباما نے خبردار کیا کہ ’ہماری پہنچ دُور تک ہے اور انصاف کیا جائے گا۔‘

ادھر عراق اور شام میں سرگرمِ عمل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکی مغوی سٹیون سوٹلوف کے قتل کی جاری کردہ ویڈیو پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ یہ عمل ایک ’نفرت انگیز جرم‘ ہے۔

امریکہ نے خبر دی ہے کہ اس ویڈیو کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ اگر یہ ویڈیو درست ہے تو یہ ’بیمارانہ بربریت‘ کی مثال ہو گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے کوبرا ہنگامی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی طرف سے نشر کی جانے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک مغوی امریکی صحافی سٹیون سوٹلوف کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے۔

سٹیون سوٹلوف سنہ 2013 میں شام میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ وہ گذشتہ مہینے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی اپنے ساتھی امریکی صحافی جیمز فولی کی قتل کی ویڈیو کے آخر میں نظر آئے تھے۔

’فولی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا‘

تازہ ویڈیو میں ایک شدت پسند ایک برطانوی مغوی کو بھی ہلاک کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویڈیو میں سوٹلوف نے ایک پیغام پڑھ کر سنایا

سٹیون سوٹلوف کے خاندان نے کہا کہ انھیں اس ویڈیو کی خبر تھی اور وہ انھیں اس پر دکھ تھا۔

جیمز فولی کی ہلاکت کے بعد سٹیون سوٹلوف کی ماں نے دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر بغدادی سے اپنے بیٹے کو بچانے کی اپیل کی تھی۔

امریکہ نے حال ہی میں عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں دولتِ اسلامیہ نے سرقلم کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

اس ویڈیو کو ’امریکہ کے نام دوسرا پیغام‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس کا دورانیہ تقریباً ڈھائی منٹ ہے اور اسے بظاہر ایک صحرا میں فلمایا گیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس ویڈیو کو جیمز فولی کے سر قلم کرنے کی ویڈیو کے بعد بنایا گیا، تاہم اس کے بنانے کے صحیح وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

ویڈیو میں سوٹلوف کے ساتھ ایک نقاب پوش میں دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں سوٹلوف نے ایک پیغام پڑھ کر سنایا جس میں امریکی صدر براک اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’آپ نے امریکی عوام کے اربوں ڈالر کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کیا اور ہمیں دولتِ اسلامیہ کے خلاف پچھلی لڑائیوں میں ہزاروں فوجیوں کی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے تو اس جنگ کو دوبارہ شروع کرنے میں عوام کا کیا مفاد ہے۔‘

ویڈیو میں نقاب پوش شخص جیمز فولی کی ہلاکت کی ویڈیو میں موجود شدت پسند شخص سے مشابہت رکھتا تھا۔ اس نے سوٹلوف کی ہلاکت کے اقدام کو امریکی بمباری کا بدلہ قرار دیا۔

نقاب پوش نے کہا کہ ’میں واپس آ گیا ہوں اوباما، میں آپ کی دولتِ اسلامیہ کی طرف تکبرانہ پالیسی کی وجہ سے واپس آیا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس موقعے کی مناسبت سے تمام حکومتوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے ساتھ اتحاد سے نکل جائیں اور ہمارے لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیں۔‘

ویڈیو ایک اور مغوی کو قتل کرنے کی دھمکی پر ختم ہوتی ہے۔ مغوی کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ برطانوی شہری ہے۔

ویڈیو کی تصدیق سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا تھا کہ ’اگر یہ ویڈیو حقیقی ثابت ہوئی تو ہمیں اس بہیمانہ اقدام پر سخت افسوس ہے۔‘

سٹیون سوٹلوف کو اگست سنہ 2013 میں حلب کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ انھوں نے ٹائم میگزین، فارن پالیسی، اور کرسچیئن سائنس مونیٹر کے ساتھ کام کیا تھا اور مصر، لیبیا اور شام سے رپورٹنگ کی تھی۔

اسی بارے میں