ملکہ حسن کا تاج واپس کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برما سے تعلق رکھنے والی ایشیا پیسیفک کی ملکہ حسن مے میات نوی نے اس وقت تک اپنا تاج اور انعامی رقم واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک مقابلے کے منتظمین ان سے معافی نہیں مانگتے۔

جنوبی کوریا میں مئی 2014 میں ملکہ حسن ایشیا پیسیفک کےمقابلے کا انعقاد کرنے والے منتظمین نےگذشہ ہفتے مےمیات نوی پر جھوٹ بولنے کے الزام عائد کر کے ان سے ملکہ حسن کا اعزاز واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

مے میات نوی نے ایک جذباتی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جب تک منتظمین ان سے معافی نہیں مانگیں گے وہ اس وقت تک ایک لاکھ ڈالر کی انعامی رقم اور ملکہ حسن کا تاج واپس نہیں کریں گی۔

پچھلے ہفتے ملکہ حسن کے مقابلے کے منتظمین نے کہا تھا کہ مےمیات نوی ملکہ حسن کا تاج لے کر فرار ہوئی ہیں اور وہ ایک ’بددیانت‘ شخصیت کی مالک ہیں۔

برما میں بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر نے کہا ہے کہ مس میات نوی برما سے تعلق رکھنے والی پہلی ملکہ حسن ہیں۔

ملکہ حسن مے میات نوی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھیں اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا تھا اور مقابلے کے منتظمین نے ان سے سر سے پاؤں تک پلاسٹک سرجری کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے تردید کی کہ وہ ملکہ حسن کا تاج اٹھا کر جنوبی کوریا سے فرار ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ ملکہ حسن کا تاج لے کر جہاز پر سوار ہوئیں تو انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ تاج سے محروم کی جا چکی ہیں۔

منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ مے میات نوی نے ان کی ’عزت‘ نہیں کی ہے۔ منتظمین نے مے میات نوی کی طرف سے عزت نہ دینے کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

جنوبی کوریا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ منتظمین مے میات نوی کے خلاف مقدمہ درج کرانے اور پولیس کے ذریعے تاج اور انعام کی رقم واپس لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔