سعودی عرب میں سازش کےالزام میں 88 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ

سعودی عرب میں حکام نے عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے سامنے آنے کے بعد ملک میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔

سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے 88 لوگوں کو شدت پسندانہ کارروائیاں کرنے کے شک میں گرفتار کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا کہ مہینوں تک ان افراد کی نگرانی کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پہلے بھی شدت پسندی کے الزامات کے تحت جیل میں رہ چکے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں تین کا تعلق یمن سے ہے جبکہ ایک کی شناخت ہونا باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ باقی تمام افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور ملک اور بیرونی ملک پرتشدد کارروائیوں کی تیاری کر رہے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے خلاف کاررائیوں کے تیز ہونے کے بعد سعودی عرب نے اسلامی ریاست کے حامیوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے شدت پسندی کے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا لیکن انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد 59 ایسے ہیں جو پہلے اسی طرح کے الزامات کے تحت جیل میں وقت گزار چکے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ گرفتاریاں گذشتہ چند روز میں ہوئی ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی حکومت شدت پسند تنظیموں کو روکنے میں سنجیدہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جن لوگوں کو عدالتوں نے رہا کیا وہ پھر انھیں راستوں پر چل پڑے۔

اسی بارے میں