نیٹو کے بھرم کا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرائمیا میں روسی افواج کی موجودگی سے ابھرنے والی صورتحال میں پولینڈ کی حکومت نے اپنی سرحدوں پر نیٹو افواج متعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے

ان دنوں روس اور یوکرین کے درمیان سیاسی نفوذ اور فوجی بالادستی کی کشمکش جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ابھرنے والی حالیہ کشمکش نے نیٹو فوجی اتحاد کو آزمائش اور امید کے ایک مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔

اس بات کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ پرانے حلیفوں اور نئے ارکان، دونوں کے تقاضے پورے کرنے کے لیے نیٹو کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ ایک مؤثر اور فعال حفاظتی اور دفاعی نظام ہے۔

لہٰذا نیٹو کو اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے ایک سخت امتحان کا سامنا ہے اور مشرقی یورپ میں سابقہ سوشلسٹ ممالک اور سابق سویت ریاستوں نے مؤثر دفاع کی یقین دہانی پر نیٹو کی رکنیت اختیار کی تھی۔ اب ان کا بھرم قائم کرنے کے لیے نیٹو کو اپنی افادیت بڑے واضح طور پر ثابت کرنا پڑے گی۔

1991ء میں سویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد سے نیٹو نے سابق سویت ریاستوں میں توسیع کی تگ و دو تو خوب کی لیکن روس کی جانب سے جوابی اقدامات کے تدارک کی مؤثر تیاری کے معاملے میں غیر مؤثر اور کمزور نظر آتی ہے۔ کرائمیا میں روسی افواج کی موجودگی سے ابھرنے والی صورتحال میں پولینڈ کی حکومت نے اپنی سرحدوں پر نیٹو افواج متعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے سبب نیٹو سپاہیوں کی اگلی سرحدوں پر کئی کئی ماہ تک متعین کرنے کی ضرورت بڑھتی جائے گی اور نیٹو کو نقل و رسد کے نئے مراکز قائم کرنے ہوں گے جس کے بغیر کسی مقام پر بروقت قدم اٹھائے ہی نہیں جاسکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیٹو کے یورپی ممبران کو یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ کسی کٹھن مرحلے میں امریکی توقعات پر کس حد تک پورا اتر سکیں گے

اس پس منظر میں نیٹو کو اب تین بڑے مسائل کا سامنا ہے، ایک تو یہ کہ گذشتہ دو دہائیوں میں دفاعی بجٹ کی کمی سے یورپی ممالک کی فوجی استعداد میں کمزوری آئی ہے۔ نیٹو کے یورپی ممبران کو یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ کسی کٹھن مرحلے میں امریکی توقعات پر کس حد تک پورا اتر سکیں گے، اس کے ساتھ ہی تیسری سخت آزمائش یہ ہے کہ نئے رکن ممالک کی دفاعی ترجیحات کو نیٹو کس مرحلے تک کندھا دے پائیں گے اور ان کے تحفظات پر کتنی یقین دھانیاں کرا پائیں گے۔ دفاعی بجٹ کے حجم میں مسلسل کٹوتی اور دوسری طرف رکن ممالک کی بڑھتی تعداد کا ایک نتیجہ نیٹو کا کمزور اور غیر مؤثر بن جانا ہے جو آزمائش کا سامنا ہونے پر پراعتماد کردار نہیں ادا کر پاتا۔

اپنے مفادات کے حصول کے لیے روس کے پاس چار خاص چالیں ہیں جنہیں وہ یوکرین سے لین دین میں وسیع ضمانتوں کے حصول کے لیے بخوبی استعمال کر رہا ہے خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب یوکرین میں 26 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے۔

  • اول، یوکرائین کی روسی اقلیت کی لامحدود، غیر مشروط حمایت
  • دوم، داخلی سیاست کو اپنی پسند کے رخ پر ڈھالنے کی کوشش
  • سوم، معاشی دباؤ کا استعمال
  • چہارم، مسلح تصادم کی دھمکی

آئین کے اعتبار سے روس چاہے گا کہ یوکرین ایک وفاقی ریاست بن جائے جس میں روسی آبادی والے صوبوں کو زیادہ خود مختاری ملے اور حقوق کی بہتر ضمانت ہاتھ آئے۔ اس کے ذریعے یوکرین کی مرکزی حیثیت کمزور تر ہوتی جائے گی۔

توانائی کی ترسیل میں کمی اور قیمت میں اچانک اضافہ کا مقصد یوکرین کی حکومت کو معاشی طور پر کمزور رکھنا ہے اور اپنی شرائط منوانا ہے تاکہ روس سے معاملے میں یوکرین کی حیثیت، ساکھ اور استعداد کمزور رہے۔ انتشار اور عدم استحکام عبوری حکومت کو کمزور اور مدافعانہ حالت میں رکھے گا جس سے اس کے سیاسی حریف فائدہ اٹھائیں گے۔

Image caption نیٹو سربراہ اجلاس میں کسی کمزوری کا مظاہرہ ماسکو کی موجودہ جارحانہ پالیسی کی حوصلہ افزائی کرے گا

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی ریاست نہ بننے کی صورت میں دوسرا متبادل یوکرین میں خانہ جنگی کا امکان ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کی عبوری حکومت انتہا پسند قومیت پرستوں کی یرغمال بن گئی ہے اور روسی اقلیت کو ‘فسطائیت’ سے محفوظ رکھنے کا واحد راستہ روسی طاقت کا مظاہرہ ہے۔

21 فروری 2014 کو جرمنی، پولینڈ اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے تعاون سے یوکرین کی حکمران جماعت اور جزب اختلاف میں معاہدے کی رو سے نئے صدارتی انتخابات صدر وکٹر یانوکووچ کی مدت صدارت کی تکمیل کے قریب دسمبر 2014 میں منعقد ہونے تھے تاہم اگلے ہی دن حزب اختلاف، اقتدار کی پرامن منتقلی کے معاہدے سے پھر گئی اور عبوری حکومت کا یک طرفہ اعلان کر دیا گیا ۔ حزب اختلاف کی جذباتیت و یورپی قائدین کی جلد بازی اور معاہدے کو ٹوٹنے سے نہ بچا پانے کے سبب روس کے ساتھ 20 سالہ عدم جارحیت کے تعلقات کو تصادم کے خطرے میں بدل دیا ہے۔ گو کہ سرد جنگ کا نیا آغاز تو نہیں ہوا تاہم دونوں فریقوں کے تعلقات ایک گہری دلدل میں جا پھنسے ہیں۔

بحر اوقیانوس کے فوجی تعاون میں شریک 28 نیٹو ممالک اپنے خطے میں پرامن، محفوظ اور مستحکم امن کی ضمانت کے لیے درکار ڈھانچے کی تعمیر میں مؤثر ثابت نہیں ہوسکے۔ ویلز میں نیٹو اتحاد کے مشترکہ اجلاس کا مقصد اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے۔ سربراہی اجلاس میں کسی کمزوری کا مظاہرہ ماسکو کی موجودہ جارحانہ پالیسی کی حوصلہ افزائی کرےگا۔ روس کی طرف سے یوکرین پر فوجی دباؤ نیٹو کے لیے امتحان ہے کہ آیا وہ اس بھنور سے بخوبی پار نکل پاتی ہے یا ڈوب جاتی ہے۔

اسی بارے میں