’داعش کی طاقت اور اثر کو کمزور کر کے شکست دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما نے این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمتِ عملی کی تیاری کی بات کی

صدر براک اوباما مشرق وسطی میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے اپنی حمکتِ عملی کا اعلان بدھ کو اپنی ایک اہم تقریر میں کریں گے۔

صدر اوباما جن پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے تنقید کی جاتی رہی ہے نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو بتایا کہ ’امریکہ دولتِ اسلامیہ کی طاقت اور اثر کو کمزور کر کے اسے شکست دے گا۔‘

اس دوران امریکی لڑاکا طیاروں نے مغربی عراق میں ہديتھہ ڈیم کے پاس دولتِ اسلامہ کے شدت پسندوں پر سلسلہ وار حملے کیے۔

دوسری جانب عرب لیگ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ’تمام ممکنہ اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

عرب لیگ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ مہینے منظور کی گئی قراداد کی حمایت کا اعلان کیا جس میں رکن ممالک سے کہا گیا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو عراق یا شام میں جانے والے ہتھیاروں اور پیسے کی روک تھام کریں۔

صدر اوباما نے این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس میں بتایا کہ ’میں ملک کو تیار کر رہا ہوں تاکہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بدھ کو میں ایک تقریر کروں گا اور بیان کروں گا کہ یہاں سے آگے جانے کے لیے ہمارا منصوبہ کیا ہے۔‘

صدر اوباما نے بتایا کہ ’ہم جارحانہ حملوں کا آغاز کریں گے مگر یہ تقریر امریک افواج کو زمینی کارروائی کے لیے بھجوانے کا اعلان نہیں ہو گی۔‘

امریکی صدر نے اصرار کیا کہ ’یہ عراق کی جنگ کے برابر کی بات نہیں ہے یہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے ملتی جلتی ہو گی جو کہ ہم تسلسل سے گذشتہ پانچ، چھ یا سات سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ امریکی عوام یہ سمجھیں کہ اس خطرے کی نوعیت کیا ہے اور ہم کیسے اس سے نمٹیں گے اور یہ کہ انہیں اعتماد ہو کہ ہم اس کا مقابلہ کر سکیں گے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ اس سے اکیلا نہیں نمٹنے کے لیے جائے گا بلکہ ایک عالمی اتحاد کے ساتھ مل کر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دولتِ اسلامیہ کی تیزی سے جاری پیش قدمی روکیں گے اور منظم طریقے سے ان کی قوت کا خاتمہ کریں گے ان کے کنٹرول میں علاقے کو کم کریں گے اور انہیں مکمل طور پر شکست دیں گے۔‘

یہ انٹرویو سینیچر کو لیا گیا جب صدر اوباما ویلز میں نیٹو کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس پہنچے تھے۔

اسی بارے میں