یوکرین بحران: جنگ بندی کے معاہدے کے بعد شیلنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین میں اپریل سے شروع ہونے والے تصادم میں اب تک 2600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یوکرین میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے ایک دن بعد ملک کے جنوب مشرقی شہر مریوپول میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ اس نے شہر کے مشرقی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس سے قبل یوکرین اور روس کے صدور نے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں جنگ بندی بہت حد تک برقرار ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے کہا ہے کہ باغیوں کے قبضے والے شہر لوہانسک کے لیے روانہ کیے جانے والے ٹرک گولہ باری کی وجہ سے واپس ہو گئے ہیں۔

جنگ بندی کے معاہدے پر یوکرین، روس، یورپی سکیورٹی تعاون تنظیم (او ایس سی ای) اور روس نواز باغیوں کے نمائندوں کے درمیان بیلاروس میں بات چیت کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔

جنگ بندی پر عملدرآمد کا وقت جمعے کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن کے تین بجے رکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے کہا ہے کہ باغیوں کے قبضے والے شہر لوہانسک کے لیے روانہ کیے جانے والے ٹرک گولہ باری کی وجہ سے واپس ہو گئے ہیں

گذشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان ملک کے مشرقی علاقے میں کسی قابل ذکر جنگ کی اطلاعات نہیں تھیں لیکن سنیچر کی شام کو مریوپول سے بی بی سی کے نمائندے فرگل کین نے ٹوئیٹ کیا کہ شیلنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شہر کے مشرقی حصے میں حکومتی چیک پوائنٹس کے قریب دھماکے ہوئے اور دونوں جانب سے گولہ باری ہوئی۔ تاہم توار کی صبح شیلنگ رک گئی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان دھماکوں کے جنگ بندی کے معاہدے پر کیا اثرات ہوں گے؟

ادھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے مشرقی یوکرین کی خانہ جنگی میں شریک تمام فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ فائر بندی کے معاہدے سے پہلے جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر تیار کی ہے۔

ایمنیسٹی کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ یوکرین کی فوج بلا امتیاز آبادیوں پر گولہ باری کرتی ہے جبکہ اس کے ساتھ لڑنے والے رضار کار عام لوگوں کے اغوا اور تشدد میں ملوث ہیں۔

روس کے حامی باغیوں پر بھی عام شہریوں کے اغوا، تشدد اور قتل جیسے الزمات سامنے آئے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹھی نے کہا ہے کہ انھیں مشرقی یوکرین میں باغیوں کی حمایت کے لیے روس کی براہِ راست مداخلت کے شواہد ملے ہیں۔

یوکرین میں اپریل سے شروع ہونے والے تصادم میں اب تک 2,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب روس نواز باغیوں نے کرائمیا کے علاقے کے روس سے الحاق کے ایک ماہ بعد یوکرین کے مشرقی شہروں دونیتسک اور لوہانسک پر اپریل میں قبضہ کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو اور ان کے ہم منصب ولادیمیر پوتن نے جمعے کو عمل میں آنے والے اس جنگ بندی کے معاہدے کو دیر پا بنانے کے لیے فون پر گفتگو کی

یوکرین اور مغربی ممالک روس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کی امداد کے لیے اپنے فوجی بھیج رہا ہے تاہم روس اس کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

سنیچر کو یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو اور ان کے ہم منصب ولادیمیر پوتن نے جمعے کو عمل میں آنے والے اس جنگ بندی کے معاہدے کو ’دیر پا‘ بنانے کے لیے فون پر گفتگو کی۔

ایک بیان میں صدر پوروشنکو نے کہا کہ انھوں نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے یورپی سکیورٹی تعاون تنظیم کی ’زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا ہے۔‘

اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد میں تعاون دینے پر بھی بات چیت کی۔

ایک علیحدہ بیان میں روس کے صدر پوتن نے کہا کہ دونوں نے ’بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

اسی بارے میں