سکاٹش ریفرینڈم: پاؤنڈ کی قدر میں کمی

Image caption سکاٹش عوام 18 ستمبر کو ہونے والے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے کا فیصلہ کریں گے

سکاٹ لینڈ کی متوقع علیحدگی کے خدشات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ پاؤنڈ کی قدر امریکی ڈالر اور یورو کے مقابلے میں ایک اعشاریہ تین فیصد کم ہو گئی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق سکاٹش ریفرینڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کی مہم کو اب برطانیہ میں ہی رہنے کی مہم پر سبقت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سروے کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر گذشتہ دس ماہ کے دوران کم ترین سطح تک آ گئی ہے۔

غیر یقینی صورت حال سے سکاٹ لینڈ میں قائم کمپنیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔اینڈنبرا میں قائم سٹینڈرڈ لائف کے حصص تین فیصد، روئل بینک آف سکاٹ لینڈ تقریباً ڈھائی فیصد جب کہ لوئڈز بینک کے شئیرز میں 2.7 فیصد کمی آئی ہے۔

آئی جی فرانس کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار الیگزینڈر براڈیز کا کہنا ہے کہ سکاٹش ریفرینڈم کے حالیہ جائزے کے نتائج ان تمام سرمایہ کاروں کے لیے بیداری کا پیغام ہیں جنھوں نے سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے اثرات پر غور ہی نہیں کیا تھا۔

سکاٹش عوام 18 ستمبر کو ہونے والے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

سنڈے ٹائمز میں چھپنے والے حالیہ سروے کے مطابق وہ سکاٹش باشندے جو اپنی راۓ دینے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں، ان میں سے 51 فیصد آزادی کے حق جب کہ 49 فیصد برطانیہ سے علیحدگی کے مخالف ہیں۔

ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ آزادی کی صورت میں سکاٹ لینڈ کون سی کرنسی استعمال کرےگا۔

برطانوی بینک بارکلیز کی ایک تحقیق کے مطابق سکاٹ لینڈ کی آزادی کا فیصلہ بہت سے پیچیدہ مسائل کا صرف آغاز ہی ہو گا۔ تحقیق کے مطابق: ’سیاسی اور معاشی آزادی سے لے کر، اداراتی فریم ورک، اثاثوں کی تقسیم، مالیاتی پالیسیاں اور اس کے اثرات اور آزاد سکاٹ لینڈ کی کرنسی کے امور پر غیر یقینی صورت حال برقرار رہے گی۔‘

بی بی سی کے اکنامک مدیر رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ جتنا عرصہ ان تمام امور پر غیر یقینی صورت حال برقرار رہے گی، اس وقت تک اس کے اثرات برطانوی معیشت اور خزانے پر رہیں گے اور یہ تمام صورت حال برطانیہ اور سکاٹ لینڈ دونوں کی معاشی ترقی پر اثر انداز ہو گی۔

اسی بارے میں