عراق میں سنی، شیعہ اور کرد اتحادی حکومت قائم

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نئی کابینہ میں عراق کے اسلامی سپریم کونسل سے تعلق رکھنے والے عادل عبدالمہدی کو وزیرِ تیل جبکہ سابق وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا ہے

عراق کی پارلیمان نے ایک نئی اتحادی حکومت کی توثیق کر دی ہے جس میں کرد اور سنی نائب وزرا بھی شامل ہیں، جبکہ معتدل شیعہ رہنما حیدر العبادی اتحادی حکومت کے وزیرِ اعظم ہیں۔

امریکہ نے دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کے مشن سے قبل عراق میں نئی حکومت کے قیام کو سراہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں عراقیوں کے ساتھ ہے۔ جان کیری منگل کو بات چیت کے لیے اردن اور سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔

عراق کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے خطرہ لاحق ہے جس نے ملک کے وسیع علاقے پر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

صالح الطلوق اور ہوشیار زباری کی نائب وزرا کی حیثیت سے تقرری کی منظوری ہفتوں تک جاری رہنے والے سیاسی تعطل کے بعد شراکتِ اقتدار کے فارمولے کے تحت دی گئی تھی۔

وزیرِاعظم نوری المالکی کے استعفے کے بعد معتدل شیعہ رہنما حیدر العبادی کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی تھی۔

امریکہ نے کہا ہے کہ نئی حکومت کا قیام عراق کے لیے اہم ’سنگِ میل‘ ہے۔

صدر اوباما نے نئے وزیر اعظم عبادی کو ٹیلی فون پر مبارکباد دی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ مسٹر عبادی نے دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے علاوہ ملک میں تمام برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

امکان ہے کہ صدر اوباما بدھ کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے جنگی منصوبے کا اعلان کریں گے۔ انھوں نے بارہا امریکی فوج کے عراقی سرزمین پر اترنے کے امکانات کی تردید کی ہے البتہ فضائي حملوں کی اجازت دی ہے۔

وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے ایک ہفتے کے اندر اندر وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کے تقرر کا وعدہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اوباما بدھ کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے جنگی منصوبے کا اعلان کرنے والے ہیں

ان کے پیش رو نوری المالکی کو اگست میں استعفیٰ دینے پر محبور کیا گیا تھا۔ سنی عربوں اور کردوں نے ان کی انتظامیہ پر فرقہ وارانہ پالیسیاں اختیار کرنے کے الزمات عائد کیے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے فرقہ وارانہ تناؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کی صفوں میں بہت سے سنی باغیوں جنگجو موجود ہیں۔

تاہم اب بہت سے عراقی سنیوں نے کہا ہے کہ اگر بغداد میں اصلاحات کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ ہو تو وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ہو جائیں گے۔

نئی کابینہ میں عراق کی اسلامی سپریم کونسل سے تعلق رکھنے والے عادل عبدالمہدی کو وزیرِ تیل جبکہ سابق وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔

سابق وزیرِاعظم نوری المالکی، ایاد علاوی اور سابق پارلیمانی سپیکر اسامہ النجفی کو نائب صدور کے رسمی عہدے دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جان کیری نے نئی اتحادی حکومت میں سب کے شریک ہونے کو سراہا ہے اور کہا کہ وہ منگل یعنی آج مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کریں گے جہاں وہ دولت ِاسلامیہ کو شکست دینے کےلیے ’بڑے پیمانے پر اتحاد‘ قائم کرنے میں مدد دیں گے

اربیل میں بی بی سی کے نامہ نگار جیم موئر کا کہنا ہے کہ نئی حکومت میں اہم عہدے شیعہ برادری کو ملے ہیں لیکن اس میں سنی اور کرد برادریوں کی بھی نمائندگی ہے۔

ادھر عراقی سکیورٹی فورسز کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

عراقی فوج نے پیر کو کہا تھا کہ اس نے امریکی بمباری کے بعد دفاعی لحاظ سے اہم حدیثہ ڈیم کے اردگرد بہت بڑے علاقے کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خالی کرا لیا ہے۔

شدت پسندوں نے ملک کے مغرب میں صوبہ انبار میں واقع اس ڈیم پر قبضہ کرنے کی بار بار کوشش کی تھی۔

خیال رہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے اتوار کو مغربی عراق میں حدیثہ ڈیم کے پاس دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر سلسلہ وار حملے کیے تھے اور ان کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

اسی بارے میں