سکاٹ لینڈ ریفرینڈم، برطانوی قیادت متحرک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم سب کا اتفاق ہے کہ سانجھے میں بھلائی ہے‘

جب سکاٹ سکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں ریفرینڈم کو ایک ہفتہ رہ گیا ہے تمام برطانوی قیادت نے سکاٹ لینڈ کا رخ کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نگ کلیگ اور حزب اختلاف کے رہنما ایڈ ملی بینڈ بدھ کے روز سکاٹ لینڈ پہنچے ہیں جہاں وہ برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیمرون نے ایڈنبرا میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کہا: ’اگر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ ہوگیا تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘

سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کا حصہ رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرینڈم 18 ستمبر کو ہونا طے ہے۔

حالیہ جائزوں کے مطابق ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کے حامیوں میں سخت مقابلہ ہے۔ ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر شدید ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق 39 فیصد لوگ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامی ہیں جبکہ 38 فیصد سکاٹ لینڈ کو برطانیہ میں رہنے کے حامی ہیں جبکہ 23 فیصد ابھی تک گو مگو کی صورتحال میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن برطانیہ کو متحدہ رکھنے کی مہم چلا رہے ہیں

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سیمنڈ نے، جو برطانیہ سے علیحدگی کی مہم کے سربراہ ہیں، کہا ہے کہ موجودہ برطانیہ قیادت برطانیہ کی تاریخ کی سب سے غیر مقبول قیادت ہے اور ان کے سکاٹ لینڈ کے دورے سے علیحدگی کی مہم کو فائدہ ہوگا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز ڈیلی میل میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی استدعا کی ہے۔ انھوں نے کہا: ’سکاٹ لینڈ کے روشن مستقبل کا دار و مدار برطانیہ کا حصہ رہنے میں ہے، علیحدگی میں نہیں۔‘

ایک ہفتہ قبل ’سانجھے میں بھلائی‘ کے نام سے علیحدگی کے خلاف چلائی جانے والی کثیر الجماعتی مہم کو برتری حاصل تھی لیکن جوں جوں ریفرینڈم کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں، کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈون براؤن کے اس منصوبے کی حمایت کی ہے جس کے تحت ریفرینڈم میں سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامیوں کی شکست کی صورت میں سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات سونپے جائیں گے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات تقویض کرنے کے منصوبے سے متعلق ایک واضح ٹائم فریم دیں گے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا: ’سلطنت برطانیہ ایک انتہائی قیمتی اور خصوصی ملک ہے اور وہ سکاٹ لینڈ والوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نک کلیگ اور حزب اختلاف کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: ’بہت سارے معاملات پر ہمارے اختلافات ہیں لیکن جس پر ہم سب کا اتفاق ہے کہ وہ ہے کہ سانجھے میں بھلائی ہے۔‘

اسی بارے میں