’شام کی جنگ میں کلورین گیس کا استعمال کیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام کے ایک دیہاتی علاقے میں کلورین گیس کے حملے کے بعد بچوں کو آکسیجن دی جا رہی ہے

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے لیےکام والے ایک بین الاقوامی ادارے نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں میں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ میں ممنوعہ گیس کلورین کا استعمال کیاگیا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم ’آرگنائزیشن فار پروہبیشن آف کیمیکل ویپنز‘ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس شام کی جنگ میں ممنوعہ گیس کلورین کے استعمال کیے جانے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

یہ حملے کچھ مہینوں پہلے دیہاتی علاقوں میں ہوئے جہاں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی کوششوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

گذشتہ سال ہونے والے بین الاقوامی معاہدے کی شرائط کے تحت شام کے پاس موجود ممنوعہ گیسوں کے ذخائر کو ملک سےباہر لے جا کر تباہ کیا جانا تھا۔ تاہم اس معاہدے کی رو سے شام پر کلورین گیس کے ذخائر سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازم نہیں تھا کیونکہ کلورین کو کم خطرناک گیس تصور کیا جاتا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کی شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی شام کے دیہاتی علاقوں تالمنیس، التمنہ اور قفر زیتا میں زہریلے کیمیائی مادوں کا مسلسل استعمال کیا گیا۔

اس رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ وہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہے کہ ان علاقوں میں لڑائی کے دوران جو کیمیائی ہتھیار بار بار استعمال کیا گیا وہ کلورین گیس ہے۔

گذشتہ اپریل میں دیہاتی علاقوں میں ہونے والے حملوں میں حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر زہریلی گیسوں کے استعمال کرنے کے الزام عائد کیے تھے۔

پچھلے مہینے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شامی حکام نے 2014 کے اوائل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

اسی بارے میں