قتل وغارت کی مشین

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شدت پسند سنی گروہ دولتِ اسلامیہ کے اچانک منظر عام پر آنے کے بعد سے عالمی شہ سرخیوں پر اسی تنظیم کا قبضہ ہے اور ہر شہ سرخی اس حیرت انگیز قتل و غارت کی خبر دے رہی جو گذتشہ چند ماہ سے دولتِ اسلامیہ کا شیوہ بن چکا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے ہتھکنڈے اتنے وحسشیانہ کیوں ہیں؟

لندن سکول آف اکنامکس میں جدید مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پروفیسر فواز گرجیس نے درج ذیل مضمون میں اسی سوال کا جواب دیا ہے۔

سر قلم کر دینا، صلیب پر چڑھا کر مار دینا، سنگساری، قتل و غارت، مغویوں کو زندہ درگور کر دینا اور مذہبی اور نسلی بنیادوں پر نسل کشی جیسی ظالمانہ حرکات اور دولت اسلامیہ ایک ہی چیز کے دو نام بن چکے ہیں۔

مہذب دنیا کے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ جو بھی اس قسم کی حرکات کرتا ہے اس کا دماغ خراب ہے، لیکن دولتِ اسلامیہ کے لیے یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ دشمن کو خوفزدہ اور ششدر کردینا اور یوں نئے جہادیوں ہر رعب بٹھا کر انھیں اپنے ساتھ شامل کرنا، یہ طریقہ دولت اسلامیہ کا سوچا سمجھا انتخاب ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی حکمت عملی بالکل واضح ہے اور اس کا مطلب ہے مکمل جنگ، ایک ایسی جنگ جس کی کوئی حدود و قیود نہیں، یہاں تک کہ جب اپنے ہم مکتب سنی متحارب گروہوں سے بھی کوئی جھگڑا ہو جائے تو تب بھی کوئی لین دین نہ کرنا اور نہ ہی کسی قسم کی مفاہمت کرنا۔ اگرچہ دولتِ اسلامیہ نے القاعدہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے لیکن القاعدہ کے برعکس دولتِ اسلامیہ کے رہنما اپنے جرائم کی صفائی میں کسی مذہبی حوالے کا سہارا نہیں لیتے۔

دولتِ اسلامیہ جیسی پرشدد کارروائیوں کی بنیادیں ہمیں ماضی کی دو تحریکوں میں دکھائی دیتی ہیں، تاہم جس بربریت کا اظہار دولتِ اسلامیہ کر رہی ہے ہمیں اس کی مثال ان دو تحریکوں میں دکھائی نہیں دیتی۔

شدت پسندی کی پہلی لہر کے رہنما مصری اسلام پسند سید قطب تھے جنہیں جدید جہادی تحریکوں کا سب بڑا فکری رہنما کہا جاتا ہے۔ سید قطب کی رہنمائی میں چلنے والی تحریک کا نشانہ مغرب نواز عرب رہنما تھے جنہیں اسلام پسند اپنے ’قریبی دشمن‘ کہتے تھے، تاہم اس تحریک نے بھی سیاست میں تشدد کے استعمال کو بہت محدود رکھا۔

سنہ 1980 میں انور سادات کے قتل سے شروع ہونے والی اسلام پسند مزاحمت کی یہ لہر سنہ 1990 کی دہائی کے آخری برسوں میں دم توڑ گئی۔ اس وقت تک اس لہر میں دو ہزار لوگ مارے جا چکے تھے، جس کے بعد شدت پسندوں کی اکثریت نے اپنے نئے عالمی دشمن سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے افغانستان کا رخ کر لیا۔

’قتل و غارت کی مشین‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ چند ہفتوں میں سینکڑوں نوجوان دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوئے ہیں

سوویت یونین کے خلاف لڑے جانے والے افغان جہاد نے اسلامی شدت پسندی کی ایک دوسری لہر کو جنم دیا جس کا نشانہ قریبی دشمن کی بـجائے ’دور بیٹھا ہوا دشمن‘ یعنی امریکہ اور کسی حد تک یورپ تھا۔

اس نئی تحریک کے روحِ رواں اسامہ بن لادن تھے جو ایک مالدار عرب شخصیت تھے اور افغان جہاد کے دنوں میں ایک انقلابی کے روپ میں سامنے آئے۔ اسامہ بن لادن نے امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی توجیح پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی اور انھوں نے اسے ’دفاعی جہاد‘ کا نام دیا اور اس کی وجہ مسلمان معاشروں میں امریکہ کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بتائی۔

اسامہ بن لادن جانتے تھے کہ اس جنگ میں لوگوں کے دل ودماغ جیتنا اہم ہے، اسی لیے انھوں نے مسلمانوں اور حتی کہ امریکیوں کو بھی یہی باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کی تحریک کسی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ’دفاعی‘ عمل ہے۔

لیکن دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کی نظر میں اسامہ بن لادن والی حکمت عملی کی کوئی وقعت نہیں اور انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ دنیا ان کی تنظیم کی بربریت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ البغدادی اور ان کے حواری اس بات پر بہت خوش ہیں کہ لوگ انہیں بربریت کرتا دیکھیں اور انھیں وحشی سمجھیں۔

شدت پسندی کے پہلے دونوں ادوار کے برعکس، دولتِ اسلامیہ مذہبی احکامات اور نظریے کی بجائے ظالمانہ کارروائیوں پر زیادہ زور دیتی ہے، اسی لیے دولتِ اسلامیہ ’قتل و غارت گری کی ایسی مشین‘ بن چکی ہے جو خون اور لوہے کی طاقت پر چل رہی ہے۔

اسامہ بن لادن کا کہنا تھا کہ ’جب لوگ دو گھوڑوں کو دیکھتے ہیں جن میں سے ایک کمزور ہوتا اور دوسرا طاقتور تو لوگ قدرتی طور پر اسی گھوڑے کے ساتھ ہو جاتے ہیں جو طاقتور ہوتا ہے۔‘ لیکن ابوبکر البغدادی کا کہنا ہے کہ جب آپ دہشت پھیلا کر کامیاب ہو جاتے ہیں تو ’ آپ کے دوستوں اور دشمنوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ آپ ہی وہ گھوڑا ہیں جو جیت رہا ہے۔ اس گھوڑے کے راستے سے ہٹ جاؤ ورنہ کچلے جاؤ گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہمارے قافلے میں شامل ہو جاؤ اور ایک نئی تاریخ رقم کر لو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابوبکر البغدادی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی عراق آئے تو مار دیے جائیں گے

گذشتہ چند ماہ میں ہر روز سامنے آنے والے نئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ النصرۃ فرنٹ اور اسلامک فرنٹ جیسے وہ اسلامی شدت پسند گروہ جو دولتِ اسلامیہ کا نام نہیں سننا چاہتے تھے، وہ بھی اب البغدادی کی آواز پر لبیک کہہ چکے ہیں۔

خوف اور حیرت کا امتزاج

دولتِ اسلامیہ عراق و شام کی سرحدوں سے دُور دنیا بھر کے فریب خوردہ سنی نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا چکی ہے کیونکہ یہ نوجوان دولت اسلامیہ کو وہ ہراول دستہ سمجھ رہے ہیں جو انھیں دائمی فتح سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ دولت اسلامیہ میں بھرتی ہونے والے نوجوان اس گروہ کی بربریت سے قطعاً نفرت نہیں کرتے، بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دولتِ اسلامیہ کا رعب و دبدبہ ہی ہے کہ جس نے اسلام کے دشمنوں پر خوف اور حیرت طاری کر رکھی ہے۔

شام اور عراق میں اتنے بڑے علاقوں پر قبضہ اور وہاں خلافت اسلامی کے قیام جیسی دولتِ اسلامیہ کی فتوحات کی بازگشت دور دور تک سنی جا سکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دولت اسلامیہ کی فتح کی دھوم اتنی زیادہ ہے کہ اس کے دورازے پر بھرتی کے لیے تیار نوجوانوں کی ایک طویل قطار کھڑی نظر آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ اور یورپ نے دولت اسلامی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں

مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان نوجوانوں کی دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں میں شمولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان گروہوں میں شمولیت کے بعد خود کو ایک عظیم تحریک کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں جس کا مقصد ماضی کی کھوئی ہوئی خلافت کا دوبارہ قیام ہے۔ اس کے علاوہ ایسے گروہوں میں شمولیت سے مسلمان نوجوان خود کو ایک عظیم تر شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔

شروع شروع میں لندن، پیرس، برلن اور دیگر مغربی شہروں سے ہجرت کرنے والے نوجوانوں نے عراق اور شام کے ’دارلاجہاد‘ کا رخ اس وجہ سے کیا تھا کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کا دفاع کر سکیں، لیکن اب وہ دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ لگ چکے ہیں اور اس کے سیاہ اعمال میں شریک ہو چکے ہیں جن میں عام شہریوں کے سر قلم کرنے جیسے اعمال شامل ہیں۔

ماضی کے شدت پسند گروہوں کے برعکس، دولتِ اسلامیہ نے خود کو سنی عربوں کی واحد نمائندہ تنظیم کے طور پر پیش کیا ہے جس کا مقصد بغداد اور دمشق میں ببیٹھی ہوئی مخصوص فرقوں کی حکومتوں کے خلاف لڑنا ہے۔ تمام اقلیتی گروہوں سے نفرت اور خاص طور پر شیعہ مسلمانوں سے نفرت دولتِ اسلامیہ کی گھُٹی میں شامل ہے۔

الزرقاوی اور البغدادی، دونوں ہی شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں، اسلام کے قلعے میں بیٹھے ہوئے وہ غدار جن کا صفایا ضروری ہے چاہے اس لیے عالمی سطح پر شیعوں کی نسل کشی کیوں نہ کرنی پڑے۔

الزرقاوی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے البغدادی نے بھی اپنے پیرو مرشد ایمن الظواہری کی بارہا منت سماجت کی پرواہ نہیں کی۔ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے بڑے بڑے سربراہوں نے کئی مرتبہ ابو بکر البغدادی کو منع کیا کہ وہ شیعوں کے قتل عام سے پرہیز کریں اور صرف عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت اور شام کی علوی حکومت کو نشانہ بنائیں، لیکن البغدادی نے ان کی نصیحت پر کبھی کان نہیں دھرے۔

کیا نظر امریکہ پر ہے؟

شام کی فرقہ وارانہ خانہ جنگی اور عراق میں شیعوں اور سنًیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابوبکر البغدادی نے ان ممالک کے سنی مزاحمتی گروہوں سے الحاق کر کے اپنے لیے یہاں ایک مضبوط بنیاد بنا لی ہے اور اپنے گروہ کے جنگجوؤں کو مقامی آبادیوں میں گھل مل جانے میں بھی مدد کی ہے۔

البغدادی نے اپنے گروہ کے عسکری بازو کی تشکیل نو بھی ہے اور صدام حسین کے دور کے سابق فوجیوں کی شمولیت کے بعد دولتِ اسلامیہ ایک پیشہ ور فوجی طاقت بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ البغدادی نے دھمکی دی ہے کہ کہ اگر امریکی فوجی دوبارہ عراق آئے تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق فوجیوں کی شمولیت کے بعد دولتِ اسلامیہ ایک پیشہ ور فوجی طاقت بن چکی ہے۔

ابھی تک دولتِ اسلامیہ کا نشانہ شیعہ ہی رہے ہیں اور اس نے ’دُور کے دشمن‘ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ حتیٰ کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے عروج پر بھی جب سوشل میڈیا پر لوگوں نے دولتِ اسلامیہ پر تنقید کی کہ وہ مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کر رہی تو اس کا جواب یہ تھا کہ امریکہ اور یورپ کے خلاف کارروائی سے پہلے ان کی ترجیح اپنے مقامی دشمن یعنی شیعوں کے خلاف جد و جہد کرنا ہے۔

اب جبکہ امریکہ اور یورپ نے دولت اسلامیہ کے خلاف مشترکہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ یہ گروہ مشرق وسطیٰ میں مغربی ممالک کے سفارتخانوں وغیرہ کو نشانہ بنائے گا، تاہم کچھ عرصہ پہلے جب کسی نے البغدادی سے پوچھا کہ وہ امریکہ یا یورپ پر براہ راست حملے کیوں نہیں کرتے تو دولتِ اسلامیہ کے رہنما کا کہنا تھا کہ ابھی ان کی تنظیم کے پاس یہ صلاحیت نہیں آئی ہے کہ وہ ’دور بیٹھے ہوئے دشمن‘ کو نشانہ بنا سکے۔

اسی بارے میں