دولت اسلامیہ کے خلاف محاز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امریکی صدر کے بقول دولت اسلامیہ کو پسپا کرنے کے لیے امریکہ ایک وسیع البنیاد اتحاد کی سربراہی کرے گا

امریکہ کے صدر براک اوباما اس بارے میں واضح ہیں کہ شدت پسند تنظیم نہ صرف امریکہ کے مشرقِ وسطی میں مفادات اور اس کے دوست ممالک کے لیے بلکہ ممکنہ طور پر امریکی سرزمین کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

صدر اوباما نے اس عزم کا ظاہر بھی کیا ہے کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے ایک وسیع اتحاد کی قیادت کرے گا۔ بہت سارے ممالک پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کوششوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ ہے کیا؟

دولتِ اسلامیہ کی دولت

درحقیقت دولت اسلامیہ کے خطرے کی وجہ سے خطے میں دیرینہ حریف ممالک یعنی شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب کے درمیان طویل اختلافات کم ہونا شروع ہوئے ہیں اور دونوں ممالک شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں میں عراق کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما پر لیبیا کی جنگ کے دوران امریکی ذمہ داریوں کو نہ نبھانے اور پیچھے رہنے پر تنقید کی گئی تھی۔ صدر اوباما نے بدھ کو اپنی تقریر میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں قیادت کی پیشکش کی ہے۔

اس پیشکش کو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں اچھے تناظر میں لیا جائے گا جہاں اوباما انتطامیہ اور کانگریس کی جانب سے شام میں کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا تھا۔

امریکی صدر کی چار نکاتی پالیسی میں فضائی حملے، زمین پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف فورسز کی تکنکی اور سامان فراہم کی مدد، انسداد دہشت گردی کی سرگرمیاں اور انسانی امداد فراہم کرنے کی پالیسی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولت اسلامیہ نے چند ماہ پہلے شام کے بعد عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں 29 اگست کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ایک تجزیے میں اس کا ذکر پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کسی حد تک دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کو روک دیا گیا اور اب صدر اوباما نے اس پالیسی کو دولتِ اسلامیہ کو پیچھے دھکیلنے کے طور پر اپنایا ہے۔

یہ سیاسی اور عملی طور پر قابل عمل پالیسی ہے اور اس کو اندرونِ ملک اور بیرونی ممالک سے وسیع حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

یہ ایسی پالیسی ہے جو آگے تک جا سکتی ہے اور اس میں ہر چیز کا انحصار قائم کیے جانے والے اتحاد کے موثر اور دیرپا ہونے پر ہوگا۔

کیا ترکی رضاکارانہ طور پر دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے والے شدت پسندوں کو شام میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

اور اس سے بڑھ کر کیا تمام اہم فریقین کے درمیان اختلافات دولتِ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے کم ہو سکیں گے اور کیا اس وقت تک قائم رہ سکیں گے جب تک اس حکمت عملی کے نتائج سامنے آ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عراقی سکیورٹی فورسز دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہیں

اور کیا محض چند فضائی حملوں کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے اور خطے میں پرانے اختلافات پر دشمنیاں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

مثال کے طور پر امریکہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں تعلقات خراب ہوتے ہیں تو اس صورت میں ایران اور امریکہ کا معروضی اتحاد بھی متاثر ہو گا۔کیونکہ نہیں، اس نئی حکمت عملی کا ایک بڑا امتحان عراق اور شام میں ہو گا۔

عراق کی نئی حکومت نے امریکی کارروائیوں کو تیز کرنے کا راستہ اختیار کیا، اگرچہ اس میں عسکری اور سیاسی طور پر چلینج برقرار رہیں گے۔

ملک میں سیاسی اصلاحات ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے اور حکومت سازی کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس میں ابھی ایسے تمام اقدامات کرنے ہیں جس میں ملک کی سنی آبادی کو اس بات پر قائل کیا جا سکے گا کہ ان کا مستقبل عراق کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق میں نئی حکومت کو مستحکم ہونے میں ابھی وقت لگے گا

عراق میں امریکہ سے تربیت یافتہ فوج دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کا سامنا کرنے میں ناکام رہی۔ امریکی صدر اوباما نے عراقی فوج کی ازسرنو تربیت کا اعلان بھی کیا ہے۔ تربیت فراہم کرنے کے لیے امریکہ کے اضافی 475 اہلکاروں اور مشیروں کو عراق بھیجا گیا ہے لیکن ایک منصفانہ حکومت کے قیام اور موثر فوج کو تیار کرنے میں وقت درکار ہو گا۔

جبکہ شام کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسی کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہو گا۔

امریکی صدر کی جانب سے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے دائرہ کار کو شام تک وسعت دینے کی پالیسی میں صدر اوباما کا لچک دکھانا ناگزیر ہے کیونکہ یہ سمجھ سے بالاتر ہو گا کہ دولت، اسلامیہ کو شام میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہوں۔

اس حکمت علمی میں عسکری خطرات بھی ہوں گے۔ اس میں شام اپنے فضائی دفاع کے نظام کو کس جگہ پر تعینات کرتا ہے، امریکہ کو تکنکی اعتبار سے حاصل برتری، اور یہ حقیقت کہ شامی حکومت کو بھی دولت اسلامیہ سے خطرہ لاحق ہے اور اس صورتحال میں امریکی جنگی جہازوں اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کو ہو سکتا ہے کہ کم خطرات لاحق ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور شامی حکومت فورسز کو مغرب کی حمایت حاصل تھی

کیوں نہیں، امریکی جنگی جہاز شامی صدر کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور امریکی منصوبہ صدر بشارالاسد کے اقتدار کو دوام بخشنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

یہاں امریکہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی تنظیم فری سیرئین آرمی کو مسلح اور تربیت فراہم کر رہا ہے لیکن شاید یہ وہ گاڑی ہو سکتی ہے جو پہلے ہی روانہ ہو چکی ہے، ابھی تک کسی طرح سے واضح نہیں ہو سکا کہ یہ تنظیم کسی طرح سے دوبارہ ایک قابل اعتبار جنگی طاقت بن سکے گی اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اس میں کافی وقت درکار ہو گا۔

یہ فرض کرنا کہ شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کی صورت میں شام ایک پرامن ملک ہو گا اور یہاں دولت اسلامیہ کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل نہیں ہوں گی۔ بہت سارے تجزیوں میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شامی صدر کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں مزید افراتفری ہو گی جس میں شام کے اقلیتی فرقے علوی کا قتل عام کرنے کا امکان اور مختلف گروہوں میں اقتدار حاصل کرنے کی کشمکش شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی پہلے ہی شروع کر رکھی ہے

ایک واضح حکومت عملی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ شام کی صورتحال کا انجام کیا ہو گا۔ درحقیت یہاں وسیع سٹریٹیجک مسائل دریپش ہیں جو خطے کے مسائل کی جڑ کی طرف جاتے ہیں۔

خطے میں دولت اسلامیہ کا وجود میں آنا اور اس کے بعد شام، عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لینا ’خود ساختہ‘ عرب سپرنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس میں مصر میں اقتدار پر فوج کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور عرب دنیا میں جمہوریت اور پہلے سے زیادہ کھلے معاشرے کی خواہش پر دھیان نہ دینا شامل ہے۔

اس تناظر میں دولتِ اسلامیہ کا وجود میں آنا، خطے میں پائی جانے والی بے چینی اور اس کے نتیجے میں ممالک کو درپیش خطرات، خطے کے ممالک میں سے کئی کا جمہوری طرزِ حکومت سے بہت دور ہونا ہی وہ تناظر ہے جس میں اس شدت پسند گروہ کے خلاف کاررائی کا سوچا جا رہا ہے۔

یعنی یہ وہ اتحاد ہے جس کے ساتھ صدر اوباما نے کام کرنا ہو گا کیونکہ آفت کے وقت ساتھی بنانے سے پہلا دیکھا نہیں جاتا۔

اسی بارے میں