شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کریں گے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اوباما نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے ایک وسیع اتحاد کی قیادت کرے گا

امریکی صدر براک اوباما نے سنّی شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا۔

نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کے 13 برس مکمل ہونے پر بدھ کی شب امریکی قوم سے خطاب میں براک اوباما نے کہا کہ امریکہ کو دھمکی دینے والے کسی بھی گروپ کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

دولتِ اسلامیہ ہے کیا؟

امریکی صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کا ملک عراق میں مزید 475 فوجی بھیجے گا لیکن ان کا کردار جنگجوانہ نہیں ہوگا۔

دولتِ اسلامیہ اس وقت شام اور عراق میں ایک بڑے علاقے پر قابض ہے اور اس کے ارکان نے حال ہی میں دو امریکی صحافیوں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا ہے۔

امریکہ نے اب تک اس شدت پسند گروہ کے خلاف عراق میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں اور اس کے علاوہ وہ عراقی اور کرد افواج کو اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے شام میں بھی اس گروپ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے ’ایک وسیع اتحاد کی قیادت کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عراقی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم اپنی کوششوں کو صرف اپنے عوام اور امدادی قافلوں کے تحفظ سے آگے لے جائیں گے تاکہ ہم دولتِ اسلامیہ فی عراق و شام (دولتِ اسلامیہ کا سابقہ نام) پر اس وقت ضرب لگائیں جب عراقی فوج بھی ان پر حملے کر رہی ہو۔‘

براک اوباما عراقی فوج کے لیے پہلے ہی ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دے چکے ہیں۔

انھوں نے دولتِ اسلامیہ کو ایک ’کینسر‘ قرار دیا اور کہا کہ اسے تباہ کرنے کے لیے انتھک مہم چلائی جائے گی تاہم انھوں نے امریکی عوام کو یقین دلایا کہ اس جنگ میں امریکی فوج کے زمینی دستوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے وہ کانگریس کی منظوری کا خیرمقدم کریں گے لیکن ان کے پاس اس منظوری کے بغیر بھی کارروائی کا اختیار موجود ہے۔

گذشتہ برس صدر اوباما نے کانگریس کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے شام میں حکومتی افواج پر فضائی حملے کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا تھا۔

اگرچہ شامی حکومت کی افواج بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے میں مصروف ہیں لیکن اپنی تقریر میں امریکی صدر نے شامی صدر بشار الاسد کا ساتھ دینے کا امکان رد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دولتِ اسلامیہ فی عراق و شام کے خلاف جنگ میں ہم اسد حکومت پر بھروسہ نہیں کر سکتے جو خود اپنے شہریوں کو دہشت زدہ کر رہی ہے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس کے برعکس شامی حزبِ مخالف کو مضبوط کرے گا۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے عراق میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ دنیا دولتِ اسلامیہ کی ’برائی‘ کو پھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔

جان کیری نے مشرق وسطی کے دورے میں کہا کہ دولتِ اسلامیہ عراقی عوام کو درپیش اب سب سے بڑا خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ایک عالمی منصوبہ بنایا جا ئے گا تاہم اس لڑائی میں عراق کی نئی حکومت کا کردار ایک انجن کا سا ہوگا۔

عراق کے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے ’کینسر‘ کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی تھی۔

جان کیری سے ملاقات کے بعد العبادی نے کہا: ’یقیناً ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کریں لیکن بین الاقوامی برادری بھی عراق کی تحفظ کے لیے ذمہ دار ہے۔‘

اسی بارے میں